افغانستان کے پہلے پختون خلاباز اور تاریخ میں منفرد مقام رکھنے والے عبدالاحد مومند 67 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔
رپورٹس کے مطابق وہ طویل عرصے سے کینسر کے مرض میں مبتلا تھے اور جرمنی میں جلاوطنی کے دوران ایک ہسپتال میں زیر علاج تھے، جہاں 21 جون 2026 کو ان کا انتقال ہوا۔
عبدالاحد مومند کا شمار افغانستان کی تاریخ کی اہم شخصیات میں ہوتا ہے۔ انہوں نے 1988 میں خلا کا تاریخی سفر کیا اور افغانستان کی نمائندگی کرنے والے پہلے خلاباز بنے۔ اس سفر کے دوران وہ اپنے ساتھ قرآن مجید بھی لے کر گئے تھے۔
عبدالاحد مومند نے خلا سے اُس وقت کے افغان صدر ڈاکٹر نجیب اللہ احمدزی اور اپنی والدہ سے پشتو زبان میں گفتگو کی تھی۔ ان کے اس تاریخی رابطے کے بعد پشتو دنیا کی ان زبانوں میں شامل ہوئی جنہیں خلا میں بولنے کا اعزاز حاصل ہوا۔
یہ بھی پڑھیں : بادلوں نے ڈیرے ڈال لیے، کہیں ہلکی بارش تو کہیں بوندا باندی، این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری
مرحوم عبدالاحد مومند افغانستان کی فضائیہ میں کرنل کے عہدے پر فائز رہے۔ انہیں دو بڑے اعزازات سے بھی نوازا گیا، جن میں آرڈر آف لینن اور ہیرو آف سوویت یونین کا اعزاز شامل ہے۔
اہل خانہ کے مطابق عبدالاحد مومند ایک شفیق انسان، محب وطن شخصیت اور عزت و احترام رکھنے والے فرد تھے۔ ان کی وفات پر سوگوار خاندان اور چاہنے والوں نے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے۔
عبدالاحد مومند کا نام افغانستان کی تاریخ میں ہمیشہ ایک ایسے شخص کے طور پر یاد رکھا جائے گا جنہوں نے خلا میں جا کر اپنے ملک کا نام روشن کیا۔





