ٹرمپ کا تعلیمی پالیسی میں اہم تبدیلی: ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر کے ملک کی تعلیمی پالیسی کو ریاستوں کے حوالے کر دیا ہے، جس سے امریکہ کے تعلیمی نظام میں اہم تبدیلیاں آئیں گی۔

یہ اقدام صدر ٹرمپ کے انتخابی وعدے کی تکمیل ہے، جس سے قدامت پسند حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے، تاہم تعلیم کے حامیوں میں تشویش پھیل گئی ہے۔

صدر ٹرمپ کا یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب محکمہ تعلیم نے اپنی نصف سے زائد ملازمین کو فارغ کرنے کی بات کی تھی۔ یہ ٹرمپ کی حکومت میں آنے کے بعد امریکی حکومت کی ساخت میں کی جانے والی تبدیلیوں کا ایک اور قدم ہے۔

وائٹ ہاؤس میں اس ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کرنے کی تقریب میں طلباء، اساتذہ، والدین اور ریاستی گورنرز نے شرکت کی۔ ٹرمپ نے اس موقع پر کہا کہ یہ فیصلہ ریاستوں کو زیادہ خودمختاری دینے اور مقامی سطح پر تعلیم کے نظام میں بہتری لانے کے لیے کیا گیا ہے۔

امریکہ میں تعلیم ایک طویل عرصے سے متنازعہ موضوع رہی ہے، جہاں قدامت پسند حلقے اسکولوں کے انتخاب کی پالیسیوں کی حمایت کرتے ہیں جو نجی اسکولوں کو فائدہ پہنچاتی ہیں۔ اس اقدام کے بعد، ریاستوں کو اپنی تعلیمی پالیسیوں کے تعین کا مکمل اختیار مل جائے گا، جو کہ وفاقی حکومت کے کنٹرول کو محدود کرے گا۔

اس آرڈر کے تحت، محکمہ تعلیم کے بڑے کردار کو کم کر دیا جائے گا، حالانکہ عوامی اسکولوں کی 85 فیصد فنڈنگ ریاستوں اور مقامی حکومتوں سے آتی ہے۔ محکمہ تعلیم کمزور اسکولوں اور پروگراموں کے لیے وفاقی گرانٹس فراہم کرتا ہے، جن میں خصوصی ضروریات والے بچوں کے اساتذہ کی تنخواہیں، فنون کے پروگرامز اور پُرانی انفراسٹرکچر کی تجدید شامل ہے۔

یہ بھی پڑھیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حماس کو وارننگ، غزہ چھوڑنے کی مہلت

اس آرڈر کو سینیٹ میں منظور کرانے کے لیے صدر ٹرمپ کو ڈیموکریٹس کی حمایت کی ضرورت ہوگی، جس کے لیے 60 ووٹ درکار ہیں۔ تاہم، اس فیصلے کو بعض حلقے ایک نئی تبدیلی اور تعلیمی نظام کی اصلاح کے طور پر دیکھ رہے ہیں، جبکہ دوسروں کے مطابق یہ اقدام تعلیمی معیار کو متاثر کر سکتا ہے۔

امریکہ میں یہ فیصلہ ایک نئے تعلیمی دور کا آغاز کر سکتا ہے، جس کے اثرات پورے تعلیمی نظام پر مرتب ہوں گے۔

Scroll to Top