سینئر صحافی طارق وحید نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کو صوبائی حکمرانوں کی غلط سمت کا نتیجہ قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ صوبائی حکومت کے اس طرزِ عمل کی وجہ سے ہوا جو دہشت گردوں کی ترجمانی کرتا ہوا محسوس ہوتا تھا۔
طارق وحید کا کہنا تھا کہ صوبے کو دہشت گردی سے پاک کرنے اور امن کی واپسی کے لیے یہ اقدام پہلے ہی اٹھایا جانا چاہیے تھا۔ صورتحال پر قابو پانے کے بعد جمہوری عمل کی بحالی میں کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیےلیکن حالات کو معمول پر لانے کے لیے یہ فیصلہ انتہائی ضروری تھا۔
انہوں نے کہا کہ صوبے میں انتشار کو فروغ دیا گیا اور وفاقی حکومت کے ساتھ بے جا کشیدگی بڑھائی گئی۔ وزیراعلیٰ ریڈیو پاکستان پر حملے کے جرم میں ثابت شدہ مجرم بن کر نااہل ہو چکے تھے۔ اس قومی نقصان کا سبب بننے والے بیانیے کو ختم کرنے کے لیے مذاکراتی کوششیں بھی کی گئیں جنہیں پی ٹی آئی نے یکسر ٹھکرا دیا۔





