الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی امریکی کمپنی ٹیسلا نے اپنی نئی نسل کی اسپورٹس کار روڈسٹر کی ایک حیران کن جھلک پیش کی ہے جس کے بعد اُڑنے والی گاڑیوں کا تصور ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق نئی روڈسٹر کا مظاہرہ ٹیکساس میں اسپیس ایکس کی ایک آزمائشی تنصیب میں کیا گیا۔
مظاہرے میں گاڑی کو ایک خم دار ریمپ سے بلند ہو کر ہوا میں قلابازی لگاتے اور پھر بحفاظت زمین پر اُترتے دکھایا گیا، یہ مظاہرہ بغیر ڈرائیور کے کیا گیا تاکہ کسی بھی ممکنہ حادثے کی صورت میں انسانی جان کو خطرہ نہ ہو۔
ایلون مسک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اس مظاہرے کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ لگتا ہے مستقبل میں واقعی اُڑنے والی کاریں ہوں گی۔
ٹیسلا کے نائب صدر برائے گاڑیوں کی انجینئرنگ لارس موروی نے بھی اس ٹیکنالوجی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اُڑنے والی کاریں حقیقت ہیں۔
ایک سیکنڈ سے بھی کم وقت میں 97 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار؟
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ نئی نسل کی ٹیسلا روڈسٹر صفر سے 60 میل فی گھنٹہ، یعنی تقریباً 97 کلومیٹر فی گھنٹہ، کی رفتار ایک سیکنڈ سے بھی کم وقت میں حاصل کرنے کی صلاحیت رکھ سکتی ہے۔
مظاہرے کے بعد ایلون مسک نے کہا کہ گاڑی نے کامیابی سے کام کیا لیکن انہوں نے یہ بھی خبردار کیا کہ اس ٹیکنالوجی کی کامیابی کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔
گاڑی میں راکٹ جیسی ٹیکنالوجی
ٹیسلا کے مطابق روڈسٹر کے خصوصی ورژن میں اسپیس ایکس سے متعلق ٹیکنالوجی استعمال کرنے کا منصوبہ ہے، اس نظام میں کولڈ گیس تھرسٹرز شامل ہیں، جو گیس کے دباؤ سے پیدا ہونے والی قوت کے ذریعے گاڑی کو اوپر یا آگے کی جانب دھکیل سکتے ہیں۔
کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے گاڑی کی کارکردگی کو ایک نئی سطح تک لے جایا جا سکتا ہے۔
خصوصی ورژن میں گاڑی کے اطراف نصب تھرسٹرز آگے اور اوپر کی جانب حرکت کے علاوہ گھومنے جیسی حرکات میں بھی مدد دے سکتے ہیں۔
اس ٹیکنالوجی کو عوامی سڑکوں پر استعمال کرنے کی منظوری کی تصدیق نہیں ہوئی، اس لیے گاڑی کے ہوا میں بلند ہونے کے مظاہرے کو عام سڑکوں پر چلنے والی گاڑی کی باقاعدہ اُڑان نہیں سمجھنا چاہیے۔
2028 میں پیداوار شروع کرنے کا منصوبہ
ایلون مسک کے مطابق، نئی نسل کی ٹیسلا روڈسٹر کی پیداوار 2028 میں شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔





