خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے قیام کے ساتھ ہی سابقہ پی ٹی آئی حکومت کے 13 سالہ دورِ اقتدار کی معاشی نااہلی، تاجر کش پالیسیوں اور صوبے کے قیمتی قدرتی وسائل کو نظر انداز کرنے کی مجرمانہ غفلت کا ازالہ شروع ہو گیا ہے۔
تحریکِ انصاف کے طویل دورِ بدانتظامی میں جہاں اربوں ڈالر کی جیمز اینڈ جیولری صنعت کو غیر رسمی تجارت اور انتظامی روڑوں کی نذر کر کے تباہ کیا گیا، وہاں موجودہ گورنر انتظامیہ نے اس صنعت کو جدید، شفاف اور عالمی معیار پر استوار کرنے کا عملی پلان تشکیل دے دیا ہے۔
اس سلسلے میں ممبر ایڈوائزری کونسل برائے انڈسٹریز، کامرس و ٹیکنیکل ایجوکیشن ڈاکٹر محمد ارشاد کی زیرِ صدارت پشاور میں ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا جس میں خیبرپختونخوا جیمز اینڈ جیولری ایسوسی ایشن کے صدر محمد سلمان نیازی کی قیادت میں ایک اہم وفد اور کے پی بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ کے سینئر حکام نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران پی ٹی آئی دور کی پیدا کردہ معاشی بدحالی اور تجارتی رکاوٹوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ڈاکٹر محمد ارشاد نے واضح کیا کہ سابقہ حکومت کی نالائقی کے باعث صوبے کے قیمتی پتھر اور روایتی زیورات عالمی منڈیوں تک پہنچنے سے قاصر رہے لیکن موجودہ انتظامیہ کے پی بوئٹ کے ساتھ مل کر اس صنعت کی تمام دشواریاں دور کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ غیر رسمی تجارت کو ختم کر کے معیشت کو دستاویزی شکل دی جائے گی جس سے نہ صرف تاجروں کو سہولیات ملیں گی بلکہ قومی زرمبادلہ میں بھی نمایاں اضافہ ہو گا۔
اجلاس میں ایسوسی ایشن کے صدر محمد سلمان نیازی نے بتایا کہ خیبرپختونخوا کا نمائندہ وفد جرمنی میں منعقد ہونے والی بین الاقوامی نمائش میں شرکت کر رہا ہے جہاں صوبے کے قیمتی پتھروں اور زیورات کی عالمی سطح پر تشہیر کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں : عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں یکدم گر گئیں
عوامی و تجارتی حلقوں نے گورنر راج کے اس معاشی اقدام کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی نے 13 سال تک صوبے کے اہم ترین معاشی شعبوں کو صرف نعروں اور سیاست کی نذر رکھا جبکہ نئی انتظامیہ کی سنجیدہ پالیسیوں سے خیبرپختونخوا کی مصنوعات کو بین الاقوامی سطح پر نیا مقام مل رہا ہے۔





