عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے بعد فی اونس قیمت 4,085 ڈالر پر آگئی، جو 14 اکتوبر کے بعد کم ترین سطح ہے۔
ایشیائی تجارتی سرگرمیوں کے دوران اسپاٹ گولڈ کی قیمت 1.3 فیصد کمی کے بعد 4,085.29 ڈالر فی اونس ہوگئی، جبکہ دسمبر میں فراہمی کے لیے امریکی گولڈ فیوچرز 1.2 فیصد گر کر 4,100.90 ڈالر فی اونس پر آگئے۔
ماہرین کے مطابق خام تیل کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی بڑھنے کے خدشات پیدا ہوئے ہیں، جس کے باعث مرکزی بینکوں کی جانب سے شرح سود طویل عرصے تک بلند سطح پر برقرار رکھنے کا امکان ہے۔
شرح سود زیادہ رہنے کی صورت میں سونے کی سرمایہ کاری کے طور پر کشش کم ہوسکتی ہے، کیونکہ سونا اپنے سرمایہ کاروں کو سود یا باقاعدہ منافع فراہم نہیں کرتا۔
تکنیکی تجزیہ کاروں کے مطابق سونے کی قیمت کے لیے 4,073 ڈالر فی اونس کی سطح اہم سپورٹ ہے۔ اگر قیمت 4,135 ڈالر کی سطح عبور کرنے میں کامیاب ہوتی ہے تو اس میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے اور یہ 4,150 سے 4,169 ڈالر فی اونس تک پہنچ سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : کسانوں سے زبردستی گندم نہیں خریدی جائے گی، امدادی قیمت سے متعلق بڑا فیصلہ
دوسری جانب عالمی مارکیٹ میں دیگر قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں بھی کمی دیکھی گئی۔ اسپاٹ چاندی 3.3 فیصد کمی کے بعد 56.05 ڈالر فی اونس پر آگئی، جبکہ پلاٹینم کی قیمت 2.2 فیصد گر کر 1,593.05 ڈالر فی اونس ہوگئی۔ اسی طرح پیلیڈیم کی قیمت میں 2.7 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد یہ 1,057.32 ڈالر فی اونس پر آگیا۔
عالمی منڈی میں قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں اس کمی کو مہنگائی کے خدشات، شرح سود سے متعلق توقعات اور سرمایہ کاری کے رجحانات کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔





