سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو برطانوی خبر رساں ادارے (بی بی سی) کے خلاف دائر کردہ 10 ارب ڈالر کے ہتکِ عزت کے مقدمے میں بڑا عدالتی جھٹکا لگا ہے۔
امریکی وفاقی مجسٹریٹ جج اینجولیک ایچ لیٹ نے جمعرات کے روز کیس کی سماعت کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو سخت حکم جاری کیا ہے کہ وہ 11 دسمبر تک ہر صورت حلف کے تحت اپنا بیان ریکارڈ کرائیں۔
سی این این کی رپورٹ کے مطابق، امریکی عدالت نے واضح لفظوں میں خبردار کیا ہے کہ اگر ٹرمپ مقررہ تاریخ تک حلفاً بیان جمع کرانے اور عدالتی احکامات کی تعمیل میں ناکام رہے تو بی بی سی کے خلاف ان کا 10 ارب ڈالر کا بھاری بھرکم مقدمہ منسوخ یا خارج بھی کیا جا سکتا ہے۔
جج اینجولیک نے ٹرمپ کے قانونی وکلائے کار کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ وہ مقدمے سے جڑی درکار تفصیلات اور مطلوبہ دستاویزات کی فراہمی میں مزید سنجیدگی اور کوششیں دکھائیں۔
عدالتی کارروائی کے دوران جج نے بی بی سی کی اس درخواست کی بھی پورٹ کی کہ ٹرمپ کی فلوریڈا میں واقع ذاتی رہائش گاہ مارا لاگو کی رکنیت اور دیگر ریکارڈز فراہم کیے جائیں۔
عدالت نے بی بی سی کی جانب سے طلب کیے گئے عدالتی نوٹس کی مکمل حمایت کی۔ اس کے ساتھ ساتھ بی بی سی نے ٹرمپ کے قریبی حلقوں، موجودہ و سابقہ حکام اور ان کے اہل خانہ سے متعلق اہم معلومات کے حصول کے لیے کم از کم 47 عدالتی نوٹس جاری کر رکھے ہیں۔
ان نوٹسز کی زد میں آنے والوں میں جیرڈ کشنر، ایوانکا ٹرمپ، سابق اٹارنی جنرل بل بار اور سابق وائٹ ہاؤس کے وکیل پیٹ سیپولون جیسے اہم ترین نام شامل ہیں۔
واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے دسمبر 2025 میں بی بی سی کے خلاف یہ قانونی معرکہ شروع کیا تھا۔
ان کا مؤقف تھا کہ امریکی صدارتی انتخابات 2024 سے ٹھیک پہلے نشر کی گئی ایک اینیمیٹڈ یا معلوماتی دستاویزی فلم میں ان کی 6 جنوری 2021 کی تاریخی تقریر کے دو مختلف حصوں کو باہم ملا کر ایک گمراہ کن تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں : ٹرمپ کا زہریلا سیاسی انتقام مجھے خاموش نہیں کرا سکتا: رہائش گاہ پر چھاپے اور تلاشی کے بعد الہان عمر کا ردِعمل!
فلم میں ان کے حامیوں کو کیپیٹل ہل کی طرف جانے کے احکامات اور ان کے الفاظ “جان لڑا کر مقابلہ کریں گے” کو یکجا دکھایا گیا تھا جس کے بعد ٹرمپ کے حامیوں نے امریکی کانگریس (کیپیٹل ہل) کی عمارت پر حملہ کر دیا تھا۔
اس کیس میں اب عدالتی فیصلے اور 11 دسمبر کی تاریخ نے عالمی میڈیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کرا لی ہے۔





