گروہ بندی اور خفیہ راز افشا ہونے کا خوف: تحریک انصاف نے ڈوبتی کشتی بچانے کے لیے پھر گنڈاپور کا سہارا لے لیا!

خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کا سیاسی شیرازو پوری طرح بکھر چکا ہے اور پارٹی کے اندرونی راز افشا ہونے کے خوف نے قیادت کی نیندیں حرام کر دی ہیں۔

ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کی صوبائی پارلیمانی پارٹی کے حالیہ اجلاس میں سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی اچانک سیاسی واپسی اور انہیں مرکزی مذاکراتی عمل میں صوبے کا نمائندہ نامزد کرنا کسی وژن کا نتیجہ نہیں بلکہ پارٹی کی اندرونی بلیک میلنگ اور خوف کا شاخسانہ ہے۔

گنڈاپور کے پاس موجود پی ٹی آئی کی سابقہ بدعنوانیاں اور اہم راز سامنے آنے کے ڈر سے سراسیمہ قیادت نے خاموشی سے انہیں دوبارہ آگے کرنے پر مجبوری کے تحت اتفاق کیا ہے۔

اجلاس کے بعد جاری ہونے والا اعلامیہ پی ٹی آئی کی بوکھلاہٹ اور باہمی جوتم پزار کا کھلم کھلا ثبوت ہے۔

اعلامیے میں مرکزی سکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کے حالیہ بیانات اور ٹوئٹ پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے چیئرمین بیرسٹر گوہر سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ان کا نوٹس لیں جبکہ سلمان اکرم راجہ سے علانیہ معذرت اور بیان واپس لینے کا مطالبہ بھی داغ دیا گیا ہے۔

ایک ہی پارٹی کے مرکزی اور صوبائی رہنماؤں کے درمیان جاری یہ لفظی جنگ اس بات کا ثبوت ہے کہ تحریک انصاف اب نظم و ضبط سے محروم ایک بکھرا ہوا گروہ بن چکی ہے۔

صوبے میں 11 اکتوبر کو نافذ ہونے والے آئینی گورنر راج اور نگران انتظامیہ کے مؤثر اقدامات سے پی ٹی آئی کی بدعنوان و نااہل قیادت بری طرح بدحواس ہو چکی ہے۔

اجلاس میں 11 اکتوبر کے اقدام اور قبائلی و بندوبستی اضلاع میں قائم کیے جانے والے نئے شفاف انتظامی ڈھانچے کو مسترد کرنے کا روایتی واویلا مچایا گیا جبکہ ایریا ریپریزنٹیٹو ڈویلپمنٹ کونسلز جیسے عوامی ریلیف پر مبنی منصوبوں کی شدید مخالفت کی گئی۔

عوامی حلقوں کے مطابق پی ٹی آئی کی جانب سے نئے انتظامی نظام اور شفاف ترقیاتی کاموں کی مخالفت کی واحد وجہ یہ ہے کہ اس سے ان کے سابقہ کمیشن اور کرپشن کے راستے ہمیشہ کے لیے بند ہو چکے ہیں۔

اپنی سابقہ نااہلی اور مجرمانہ غفلتوں سے صوبے کا امن و امان تباہ کرنے والی تحریک انصاف اب اپنے قانونی نتائج بھگتنے کے خوف سے بوکھلا چکی ہے۔

سہیل آفریدی، بابر سلیم سواتی اور دیگر کارکنوں کی گرفتاریوں اور قانونی کارروائیوں پر واویلا مچاتے ہوئے پی ٹی آئی نے اب عالمی برادری سے مدد کی اپیلیں کرنا شروع کر دی ہیں۔

مزید پڑھیں : حکومت کیوں ڈوبی؟ علی امین گنڈاپور کی آڈیو لیک، ملبہ سلمان اکرم راجہ پر ڈال دیا!

سیاسی ماہرین کا کہنا ہےکہ آئین و قانون کی دھجیاں اڑانے والی جماعت کا عالمی برادری سے بازیابی کا مطالبہ کرنا ان کی آخری حد تک پہنچ چکی سیاسی لاچاری اور بوکھلاہٹ کو ظاہر کرتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ پی ٹی آئی خیبرپختونخوا اس وقت اقتدار کے چھن جانے سنگین مقدمات کے دباؤ اور گنڈاپور سمیت مختلف دھڑوں کے ممکنہ انکشافات کے خوف میں شدید جکڑی ہوئی ہے جس کے باعث وہ عوامی مسائل کے حل کے بجائے صرف اپنے دھڑوں کو بچانے کے ناکام جتن کر رہی ہے۔

Scroll to Top