مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم کاملکی مہنگائی اور معیشت بارے ردعمل پی ایم ایل این/پی ڈی ایم کی معاشی ویژن ہمیشہ کی طرح فرسودہ ذہنیت کی عکاس ہے۔
تفصیلات کے مطابق پی ایم ایل این نجی شعبے والے افراد کو کابینہ میں شامل کرتے پھر وہی حالات رہتے ہیںکوئی حکمت عملی نہیں، پرانے خیالات کے مالک اسحاق ڈار اور احسن اقبال پی ایم ایل این کی بقا کی قیادت کر رہے ہیں۔
مشیر خزانہ خیبر پختونخوا نے کہاکہ قومی اقتصادی کونسل اجلاس میں شہباز شریف کو شرح نمو کی نشاندھی کرائی پانچ سال کے تخمینے میں اوسط نمو 4 فیصد سے کم ہے جبکہ اگلے سال تخمینہ اہم فصلوں کے لیے منفی ہے۔
مشیر خزانہ نےکہا میں نے پوچھا اس ویژن کے ساتھ بے روزگاری اور غربت پر قابو کیسے حاصل کر سکتے ہیں؟اس سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں تھا شہباز شریف نے پلاننگ کمیشن کے چیئرمین کی طرف موڑ دیا۔
انہوں نے کہا کہ پچھلے ایک سال سے بتا رہا ہوں کہ پاکستان کساد بازاری کا شکار ہے زراعت اور صنعت کے شعبے منفی میں ہے۔جبکہ حکومت اس کو کساد بازاری نہیں بلکہ استحکام کہتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ شہباز شریف کی ٹیم ڈیٹا کو پڑھنے کی محدود صلاحیت رکھتی ہے مہنگائی کم کا ڈھول پیٹ رہے ہیں۔ملک میں بنیادی افراط زر اب بھی 8 فیصد سے اوپر ہے۔
انہوںنے مزید کہاکہ قیمت میں تبدیلی کو قیمتوں میں کمی نہیں کہتے حکومت ابھی تک یہ سمجھنے سے قاصر ہے۔اشیا کی طلب وقوت خرید کمی، بے روزگاری اور غربت کی وجہ سے قیمتیں نہیں بڑھ رہی،پاکستان کے معاملے میں مہنگائی میں کمی پیداواری ترقی کی وجہ سے نہیں ہے،جبکہ نااہل حکومت مہنگائی میں کمی کا جشن منا رہی ہے۔





