اسلام آباد: نجی حج اسکیم کے تحت رواں سال 70 ہزار پاکستانی عازمین حج کے فریضے سے محروم رہ جانے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، جس کی بنیادی وجہ نجی ٹور آپریٹرز کی جانب سے سعودی حکومت کی مقررہ شرائط اور پالیسیوں پر عملدرآمد نہ کرنا قرار دیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق نجی حج آپریٹرز کی غفلت کے باعث 89 ہزار 801 حاجیوں کے مختص کوٹے میں سے صرف 12 ہزار 500 افراد کی بکنگ ممکن ہو سکی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حج کوٹہ ضائع ہونے کے اس سنجیدہ معاملے پر وزیراعظم شہباز شریف نے فوری نوٹس لیتے ہوئے اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی ہے، جو تین دن کے اندر ذمے داروں کا تعین کرے گی۔ کمیٹی کی سربراہی سیکریٹری کابینہ ڈویژن کو سونپی گئی ہے جبکہ وفاقی سیکریٹری مذہبی امور ڈاکٹر عطا الرحمان بھی کمیٹی کا حصہ ہیں۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے واضح ہدایت کی ہے کہ حج کوٹہ بچانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں اور اس سنگین غفلت میں ملوث افراد یا اداروں کی نشاندہی کر کے ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ حج جیسے اہم مذہبی فریضے کو انتظامی کوتاہی کی نذر نہیں ہونے دیا جا سکتا۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ سعودی عرب کی جانب سے نجی حج آپریٹرز، سعودی وزارت حج اور پاکستان حج مشن کے درمیان 10 دسمبر 2024 کو باقاعدہ معاہدہ ہوا تھا، جس کے تحت حکومت پاکستان نے 10 جنوری سے ٹور آپریٹرز کو حاجیوں کی فیس سعودی عرب منتقل کرنے کی اجازت دی۔ تاہم سعودی حکومت نے حاجیوں کے لیے سہولیات کی بکنگ کی آخری تاریخ 14 فروری مقرر کی تھی، جس پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔
سعودی حکام کی جانب سے معاہدے میں توسیع کی درخواست کو مسترد کر دیا گیا ہے، جس کے باعث 77 ہزار پاکستانی عازمین کے حج پر جانے کے امکانات معدوم ہوتے جا رہے ہیں۔
تشکیل دی گئی تحقیقاتی کمیٹی تین اہم نکات پر رپورٹ تیار کرے گی: سعودی پالیسی پر عملدرآمد کیوں نہ ہو سکا، مقررہ وقت میں بکنگ کیوں مکمل نہ ہوئی، اور کس سطح پر انتظامی ناکامی ہوئی۔ کمیٹی تین دن میں اپنی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کرے گی، جس کی روشنی میں آئندہ کے لائحہ عمل کا تعین کیا جائے گا۔





