عمران کیخلاف ہرجانے کے دعوے پر سماعت، وزیراعظم کی ویڈیو لنک پر پیشی، جرح کے دوران بجلی بند

عمران کیخلاف ہرجانے کے دعوے پر سماعت، وزیراعظم کی ویڈیو لنک پر پیشی، جرح کے دوران بجلی بند

وزیر اعظم سے جرح کے دوران بجلی بند ہوگئی، بجلی بند ہونے سے دعوے پر جرح رک گئی، سماعت کچھ دیر کے لیے ملتوی کردی گئی۔

تفصیلات کے مطابق ایڈیشنل سیشن جج شہباز شریف کے دائر دعوی پر سماعت کررہے ہیں ،وزیراعظم بذریعہ ویڈیو لنک عدالت میں پیش ہوگئے ،شہباز شریف نے کمراہ عدالت میں جرح سے قبل حلف لیا،وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ جو کہوں گا ، سچ کہوں گا،غلط بیانی نیں کرونگا ،جس کے بعد وکیل بانی پی ٹی آئی نے کہاکہ آپ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ آپ کے دعویٰ ڈسٹرکٹ کورٹ میں دائر نہیں ہوا یہ میرا پاس لکھا ہے کہ دعویٰ ڈسٹرکٹ جج کے پاس دائر ہوا ہے ۔

ذرائع کے مطابق وکیل شہباز شریف نے کہا کہ یہ معاملہ پہلے ہی طے ہوچکا وکیل بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ جرح کرنا میرا حق ہے ، آپ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ آپ نے دعوے میں کسی میڈیا ہائوس کو فریق نہیں بنایا ۔

وزیراعظم نے کہا کہ یہ بات درست ہے وکیل شہبا زشریف نے کہا کہ کیا یہ درست ہے کہ عمران خان نے آپ پر دس ملین کا الزام آمنے سامنے نہیں لگایا ، وزیراعظم نے کہاکہ یہ بیہودہ الزام ٹی وی پر دہرایا گیا ۔

دوران سماعت وکیل بانی پی ٹی آئی نے کہاکہ کیا میں پنجابی میں سوال کرسکتا ہوں ، وزیراعظم نے کہا کہ آپ بڑے شوق سے کریں ۔جس پر وکیل نے سوال کرتے ہوئے کہاکہ جن ٹی وی پروگرامز میں آپ پر الزام عائد کیے گئے وہ اسلام آباد سے آن ائیر ہوئے تھے جس پر شہبا زشریف نے جواب دیا کہ مجھے اس بارے علم نہیں ۔

دوران سماعت شہباز شریف نے کہاکہ یہ درست ہے کہ میں نے دعویٰ ڈسٹرکٹ جج کے روبرو دائر کیا ہے ، ڈسٹر کٹ کورٹ میں دائر نہیں کیا ۔

وزیراعظم کے وکیل نے اعتراض کیا او رکہا کہ ڈسٹرکٹ جج یا ڈسٹرکٹ کورٹ کے قانونی نقطہ کا فیصلہ متعلقہ جج کرچکی ہے ۔درست ے کہ عمران خان نے تمام الزام دو ٹی وی چینلز کے پروگرام پر لگائے مجھے علم نہیں ہے کہ دونوں نیوز چینلز نے یہ وی پروگرام کس شہر سے نشر ہوئے ، وزیراعظم شہباز شریف نے کہاکہ دعوی دائر کرنے سے قبل میں دونوں چینلز کے پروگرام کے نشر کرنے کے شہروں کی تصدیق نہیں کی ۔

وزیراعظم شہباز شریف سے سوال کیاگیا کہ کیا یہ درست ہے کہ عمران خان نے آج تک آپکے خلاف ازخود بیان نشر یا شائع نہیں کیا ،وزیراعظم نے کہاکہ عمران خان نے ٹی وی چینلز پر تمام الزامات خود ہی لگائے ہیں ،مجھے عالم نہیں ہے کہ عمران خان مقامی اخبار پاکستان جیسے اخبارات کا مالک ہے یا نہیں۔

عمران خان کے وکیل نے سوال کیا کیا یہ درست ہے کہ بطور ایڈیشنل سیشن جج آج کی عدالت کو سماعت کا ،شہادت ریکارڈ کرنے کا اختیار نہیں عدالت نے شہباز شریف سے سوال کیا کہ کیا آپ اس نقطے کاجواب دینا چاہتے ہیں ،وزیراعظم نے جواب دیا کہ یہ غلط ہے کہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج کو بطور ڈسٹرکٹ جج دعویٰ سماعت کرنے ،شہادت ریکارڈ کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے ۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ یہ غلط ہے کہ ہتک عزت قانون 2002کی دفعہ12کا اطلاق کسی شخص کی ذات پر نہیں بلکہ صرف میڈیا ہائوسز کے اداروں ، انکے ملازمین اور افسران پر ہوتا ہے یہ غلط ہے کہ دعویٰ ایک پرائیویٹ شخص کیخلاف دائر کیاگیا اس لئے یہ قابل پیشرفت نہیں ہے ۔

وزیراعظم شہبا زشریف نے کہا کہ مجھے یا نہیں کہ مین 2017میں جب الزام لگا تو مسلم لیگ نواز کا صدر تھا یا نہیں ، یہ درست ہے کہ 2017میں میرا ن لیگ سے تعلق تھا آج بھی ہے ، یہ درست ہے کہ جب 2017میں الزام لگا تو عمران خان پی ٹی آئی کے چیئرمین تھے ۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ یہ بھی درست ہے کہ جب سے عمران خان نے سیاست شروع کی جماعت بنی ، تب سے ن لیگ کے حریف رہے ہیں یہ درست ہے کہ کپتان تحریک انصاف بننے سے لیکر آج تک کبھی ن لیگ کے اتحادی نہیں رہے ۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ درست ہے کہ میں نے اسی لئے دعویٰ کے پیراگراف 3میں ن لیگ کے سیاسی حریف کے الفاط لکھوائے تھے یہ غلط ہے کہ سیاسی حریف ہونے کی وجہ سے ہم دونوں ایک دوسر ے کیخلاف سیاسی بیانات دیتے رہتے ہیں اس کیساتھ ہی آئندہ سماعت 25اپریل 9بجے تک ملتوی کردی گئی ، باقی جرح آئندہ سماعت پر ہوگی ۔

Scroll to Top