چیف الیکشن کمشنر نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخاب کیس: فیصلہ ہو چکا، فائنل آرڈر جاری نہیں کریں گے۔
تفصیلات کے مطابق انٹرا پارٹی انتخاب کیس کی سماعت کے دوران چیف الیکشن کمشنر نے واضح کر دیا کہ الیکشن کمیشن اس معاملے پر فیصلہ دے چکا ہے اور اب فائنل آرڈر جاری نہیں کیا جائے گا۔چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیشن نے کیس کی سماعت کی، جس میں پی ٹی آئی کے وکیل، درخواست گزار اکبر ایس بابر اور دیگر فریقین پیش ہوئے۔ پی ٹی آئی کے وکیل نے تفصیلی دلائل دیے، تاہم چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس میں کہا کہ یہ نکات پہلے ہی سامنے آ چکے ہیں، اور پی ٹی آئی کے تمام اعتراضات کو مسترد کیا جاتا ہے۔
چیف الیکشن کمشنر نے کہا ہے کہ بیرسٹر گوہر کو بطور پارٹی چیئرمین نہیں بلکہ وکیل کے طور پر سنا گیا،انہوں نے پی ٹی آئی کو جمع کرائی گئی دستاویزات پر دلائل دینے کی ہدایت بھی کی۔
الیکشن کمیشن کے ڈی جی لا نے وضاحت کی کہ ہر سیاسی جماعت انٹرا پارٹی انتخابات کرانے کی قانونی پابند ہے۔ ڈی جی پولیٹیکل فنانس نے کہا کہ پی ٹی آئی 2021 میں انٹرا پارٹی انتخابات کرانے کی پابند تھی لیکن یہ انتخابات مقررہ وقت پر نہیں کروائے گئے۔
حکام نے بتایا کہ پی ٹی آئی کا موجودہ آئین 2019 میں منظور ہوا تھا جس کے تحت چیئرمین کا انتخاب خفیہ رائے شماری (سیکرٹ بیلٹ) کے ذریعے ہونا چاہیے۔ پارٹی کے آئین کے مطابق کور کمیٹی اور دیگر باڈیز اس وقت موجود نہیں ہیں۔
الیکشن کمیشن نے یہ بھی نشاندہی کی کہ نومبر 2023 میں پی ٹی آئی کے پارٹی الیکشن کمشنر نے ترمیم شدہ آئین اور انٹرا پارٹی انتخابات کے نتائج واپس لے لیے تھے، جس کے بعد پارٹی کا کوئی باقاعدہ تنظیمی ڈھانچہ باقی نہیں رہا۔
مزید کہا گیا کہ پی ٹی آئی نے جنرل باڈی اجلاس میں قرارداد کے ذریعے چیف آرگنائزر مقرر کیا، حالانکہ پارٹی آئین میں جنرل باڈی یا نیشنل کونسل کا کوئی ذکر نہیں۔ حکام نے سوال اٹھایا کہ آیا صرف ایک قرارداد کی بنیاد پر، بغیر کسی تنظیمی ڈھانچے کے، انٹرا پارٹی انتخابات کا انعقاد ممکن ہے؟
الیکشن کمیشن کے ریکارڈ کے مطابق پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل اسد عمر ہیں، لیکن پارٹی میں اس وقت کوئی اور فرد اس عہدے پر کام کر رہا ہے، جس سے داخلی نظام میں تضاد ظاہر ہوتا ہے۔





