اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ نے آپریشن “بنیان مرصوص” کے دوران پاکستان کی جانب سے شاہین 3 بیلسٹک میزائل کے مبینہ استعمال سے متعلق بھارتی الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔
ترجمان نے بھارتی میڈیا کے بعض حلقوں میں پھیلائے جانے والے دعوؤں کو “من گھڑت اور بے بنیاد” قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے خلاف یہ پروپیگنڈہ مہم دانستہ طور پر گمراہ کن ہے، جس کا مقصد بھارت کی اپنی فوجی ناکامیوں سے توجہ ہٹانا ہے۔
بھارتی الزامات کی بنیاد ایک ویڈیو تھی جو بھارتی فوج کے سرکاری ایکس (سابقہ ٹوئٹر) ہینڈل سے جاری کی گئی۔ ویڈیو میں مبینہ طور پر شاہین میزائل دکھایا گیا، جسے کچھ دیر بعد ہٹا لیا گیا۔
ترجمان کے مطابق، یہ ویڈیو جھوٹے بیانیے کو فروغ دینے کی ایک کوشش تھی، جسے بعض بھارتی میڈیا اداروں نے بغیر تصدیق کے نشر کرنا شروع کر دیا۔
ترجمان نے افسوس کا اظہار کیا کہ اب بھی بعض بھارتی ادارے جھوٹ پر مبنی اطلاعات پھیلانے میں سرگرم ہیں۔
بھارتی فوج کی جانب سے اس غلطی پر کوئی سرکاری وضاحت یا تردید جاری نہیں کی گئی۔
اس قسم کی گمراہ کن مہمات دراصل بھارت کی جانب سے آپریشن “سندور” میں ناکامیوں کو چھپانے کی ایک منظم کوشش کا حصہ ہیں۔
بھارتی ناکامیاں پاکستان کی روایتی فوجی صلاحیتوں کے مظاہرے کا نتیجہ تھیں،جھوٹے بیانیے نئی دہلی کی طرف سے جنگ بندی کے بارے میں غلط فہمیاں پھیلانے اور پاکستان پر نام نہاد “ایٹمی بلیک میلنگ” کا جھوٹا الزام لگانے کے ساتھ بھی جُڑے ہوئے ہیں۔
پاکستان کی جانب سے استعمال ہونے والے ہتھیاروں کی مکمل تفصیلات 12 مئی 2025 کو آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں موجود ہیں۔
اس پریس ریلیز کے مطابق، پاک فوج نے “فتح” سیریز کے جدید ترین ہتھیار استعمال کیے، جن میں فتح اول اور فتح دوم میزائل شامل ہیں۔
ان کے علاوہ، خودکار قاتل ڈرونز، جدید گولہ بارود، اور طویل فاصلے تک مار کرنے والی انتہائی درست توپیں بھی استعمال کی گئیں، بھارت اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں عسکری ٹھکانوں کی تفصیل بھی اسی پریس ریلیز میں موجود ہے۔
ایسے غیر مصدقہ اور اشتعال انگیز الزامات نہ صرف خطے کے امن و استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ پیشہ ورانہ اداروں کی ساکھ پر بھی سوالیہ نشان بن جاتے ہیں۔





