دوحہ: اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے غزہ جنگ بندی کے سلسلے میں قطر میں جاری مذاکرات میں شریک اسرائیلی وفد کو واپس بلانے کا حکم دے دیا ہے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق یہ فیصلہ مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہ ہونے کے باعث کیا گیا ہے۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ دوحہ میں ایک محدود ٹیم تاحال موجود رہے گی تاکہ اگر بات چیت میں کوئی غیر متوقع پیش رفت ہو تو فوری ردعمل ممکن ہو سکے۔
ذرائع کے مطابق اسرائیل نے مصر اور قطر کی ثالثی میں جاری مذاکرات میں حماس کے مطالبات کو غیر حقیقت پسندانہ قرار دیا ہے، جس کے بعد اسرائیلی قیادت نے مذاکراتی حکمت عملی پر نظرثانی کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : امریکی صدر ٹرمپ کا قطر کا دورہ، تجارتی اور دفاعی معاہدوں پر دستخط
غزہ میں جنگ بندی کے لیے بین الاقوامی سطح پر کوششیں تیز ہو چکی ہیں۔ اقوام متحدہ سمیت کئی عالمی قوتیں فریقین پر دباؤ ڈال رہی ہیں کہ وہ تشدد کا خاتمہ کر کے انسانی بحران کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کریں۔





