شمالی وزیرستان میں سرکاری دفاتر غیر فعال، بیشتر ملازمین غیر حاضر

ضلعی انتظامیہ شمالی وزیرستان نے میرانشاہ میں سرکاری دفاتر میں ملازمین کی غیر حاضری کا سخت نوٹس لیا ہے۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے عوامی ایجنڈا کے تحت اور ڈپٹی کمشنر شمالی وزیرستان محمد یوسف کریم کی ہدایات پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) سمیع اللہ خان نےآج مختلف سرکاری دفاتر کا اچانک معائنہ کیا۔

معائنے کا مقصد سرکاری اہلکاروں کی حاضری، ریکارڈ کی درستگی اور انتظامی نظم و ضبط کا جائزہ لینا تھا۔ اس دوران متعدد دفاتر میں سنگین بے ضابطگیاں سامنے آئیں۔

مواصلات کے دفتر (سی اینڈ ڈبلیو) میں 74 میں سے 66 ملازمین غیر حاضر پائے گئے جبکہ صرف 8 ملازمین ڈیوٹی پر موجود تھے،ایکسن اور ایس ڈی اوبھی بغیر اجازت غیر حاضر تھے۔

ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفس (مردانہ) میں بھی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر اوردیگر افسران کی غیر حاضری اور انتظامی کمزوری واضح طور پر محسوس کی گئی۔ ایکسائز، ٹیکسیشن و منشیات کنٹرول کا دفتر اگرچہ کھلا تھا تاہم مکمل عملہ غیر حاضر تھا۔

پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کا دفتر دفتری اوقات میں مکمل طور پر بند پایا گیا، جو عملے کی غفلت کو ظاہر کرتا ہے۔ٹرانسپورٹ دفتر میں اگرچہ عملہ موجود تھا، لیکن ریکارڈ کی دیکھ بھال میں شدید کوتاہی سامنے آئی۔

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل سمیع اللہ خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان سنگین انتظامی کوتاہیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ متعلقہ افسران سے فوری وضاحت طلب کر لی گئی ہے جبکہ تادیبی کارروائی کے لیے سفارشات بھی تیار کی جا رہی ہیں۔

Scroll to Top