عمران خان کیخلاف ہرجانہ کیس ، شہباز شریف کی ویڈیو لنک پر جج اور دیگر کو جنگ جیتنے پر مبارکباد

سماعت کے دوران شہبا زشریف نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے ان پر دس ارب روپے کا جھوٹا اور بددیانتی پر مبنی الزام لگایا تھا ۔

تفصیلات کے مطابق لاہور کی سیشن عدالت میں ہفتے کے روز بانی چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے خلاف وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے دائر کیے گئے 10 ارب روپے کے ہرجانے کے دعوے کی سماعت ہوئی۔ کیس کی کارروائی ایڈیشنل سیشن جج یلماز غنی کی عدالت میں ہوئی۔

سماعت کے دوران وزیر اعظم شہباز شریف ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہوئے اور جرح کا سامنا کیا۔ عدالت میں پیشی کے دوران وزیراعظم نے جج اور عدالت میں موجود افراد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، ’’جج صاحب، آپ سمیت کمرۂ عدالت میں موجود تمام افراد کو فتح مبارک ہو۔‘‘ جس پر جج نے جواب دیا، ’’آپ کو بھی بہت مبارک ہو۔‘‘ بانی پی ٹی آئی کے وکیل میاں محمد حسین نے اس تبادلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، ’’یہ بہت خوشی کی بات ہے، ساری قوم کی فتح ہے۔‘‘

وکیل میاں محمد حسین نے جرح کا آغاز کرتے ہوئے شہباز شریف سے پوچھا کہ کیا انہوں نے اپنے دعوے میں ان اخبارات کو فریق نہیں بنایا جن میں متعلقہ خبر شائع ہوئی تھی، اور نہ ہی انہیں کوئی لیگل نوٹس بھیجا؟ اس پر وزیراعظم نے جواب دیا کہ ’’یہ بات درست نہیں ہے۔‘‘

ایک اور سوال میں وکیل نے استفسار کیا کہ کیا عمران خان نے خود اخبارات کو کوئی بیان دیا تھا؟ اور اگر نہیں، تو پھر اخبارات کو فریق بنانے کی ضرورت کیوں محسوس نہیں کی گئی؟ وزیراعظم نے ان سوالات کا جواب نفی میں دیا۔

شہباز شریف نے عدالت کو بتایا کہ یہ دعویٰ 7 جولائی 2017 کو دائر کیا گیا تھا، اور بانی پی ٹی آئی نے 28 اپریل کو اسلام آباد میں ایک جلسہ کیا، جس کی خبر 29 اپریل کو ایک نجی اخبار میں شائع ہوئی۔ وکیل نے سوال کیا کہ آیا وزیراعظم نے اس معاملے کے علاوہ عمران خان کے خلاف کوئی اور مقدمہ دائر کیا، جس پر شہباز شریف نے جواب دیا کہ ایسا کوئی دوسرا مقدمہ دائر نہیں کیا گیا۔

دورانِ سماعت وزیراعظم نے واضح کیا کہ عمران خان نے ان پر جھوٹا اور بددیانتی پر مبنی 10 ارب روپے کا الزام عائد کیا تھا، جس کی بنیاد پر یہ دعویٰ دائر کیا گیا۔ انہوں نے وکیل کی پیشہ ورانہ مہارت کو سراہتے ہوئے کہا، ’’محمد حسین چوٹیا صاحب بہت پروفیشنل ہیں۔‘‘

وکیل نے جب پانامہ کیس سے متعلق سوال کیا تو وزیراعظم کے وکلا نے اعتراض کیا۔ تاہم، وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر دعوے میں اس کا ذکر نہ ہوتا تو وہ سوال نہ کرتے۔ اس موقع پر شہباز شریف نے کہا کہ ’’پانامہ کیس اخبارات اور ٹی وی پر آیا تھا، اس لیے ذکر کیا۔‘‘

شہباز شریف نے دورانِ سماعت عدالت کو بتایا کہ انہیں ترکی، آذربائیجان اور ایران کے دورے پر جانا ہے۔ جس پر وکیل محمد حسین نے کہا، ’’آپ کے دعوے سے متعلق سوالات کیے جا رہے ہیں۔‘‘ عدالت نے آئندہ سماعت 2 جون تک ملتوی کر دی۔

Scroll to Top