اقدام کے تحت جگر، گردے اور بون میرو کی پیوندکاری کے علاوہ آلۂ سماعت کی تنصیب کا علاج بھی صحت کارڈ میں شامل کر لیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت نے صحت شعبے میں ایک اور اہم قدم اٹھاتے ہوئے ’’صحت کارڈ پلس‘‘ پروگرام میں چار مہنگے اور پیچیدہ بیماریوں کا علاج مفت فراہم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس اقدام کے تحت جگر، گردے اور بون میرو کی پیوندکاری کے علاوہ آلۂ سماعت کی تنصیب کا علاج بھی صحت کارڈ میں شامل کر لیا گیا ہے۔
مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر محمد علی سیف نے اس حوالے سے بتایا کہ پاکستان تحریکِ انصاف کی صوبائی حکومت نے عوامی فلاح کے لیے ایک اور تاریخی فیصلہ کیا ہے، جس کا براہِ راست فائدہ صوبے کے لاکھوں شہریوں کو ہوگا۔
بیرسٹر سیف نے مزید بتایا کہ جلد ہی مردان سے او پی ڈی سروسز کا پائلٹ پراجیکٹ بھی شروع کیا جا رہا ہے، تاکہ مریضوں کو صحت کارڈ کے ذریعے ابتدائی علاج معالجے کی سہولیات بھی میسر ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ’’صحت کارڈ پلس‘‘ کے ذریعے خیبر پختونخوا بھر میں ایک کروڑ چھ لاکھ افراد کو مفت طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ اب تک اس پروگرام سے مستفید ہونے والے افراد کی تعداد 42 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے، جس پر 128 ارب روپے سے زائد خرچ کیے جا چکے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ملک بھر میں صحت کارڈ کے پینل پر موجود 753 ہسپتالوں میں خیبر پختونخوا کے شہریوں کو بلا معاوضہ علاج فراہم کیا جا رہا ہے۔ ان کے بقول، یہ سب بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے اُس وژن کا تسلسل ہے جس کا مقصد ہر شہری کو صحت کی یکساں سہولیات فراہم کرنا ہے۔
مشیر اطلاعات نے یہ بھی عندیہ دیا کہ آئندہ مرحلے میں مزید بیماریوں کو بھی صحت کارڈ پروگرام میں شامل کیا جائے گا، تاکہ عوام کو صحت کے حوالے سے درپیش تمام مسائل کا حل ریاست کی ذمہ داری کے طور پر مہیا کیا جا سکے۔





