مہمند ڈیم کا دوسرا مرحلہ مکمل، پشاور کو روزانہ 300 ملین گیلن پانی اور سیلاب سے تحفظ ملے گا

مہمند ڈیم کا دوسرا مرحلہ مکمل، پشاور کو روزانہ 300 ملین گیلن پانی اور سیلاب سے تحفظ ملے گا

760 میٹر طویل مہمند ڈیم کی تعمیر پر 309 ارب روپے کی لاگت آئی ہے۔ واپڈا کے مطابق، ڈیم میں 1.29 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش موجود ہے

تفصیلات کے مطابق پاکستان نے آبی ذخائر کے شعبے میں ایک اور تاریخی سنگ میل عبور کرلیا۔ 213 میٹر بلند مہمند ڈیم کے دوسرے مرحلے کا باقاعدہ افتتاح وفاقی وزیر آبی وسائل محمد معین وٹو نے کردیا۔ یہ منصوبہ دنیا کے پانچویں بڑے ’’کانکریٹ فیسڈ راک فل‘‘(سی ایف آر ڈی) ڈیم کے طور پر نہ صرف ملک کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرے گا بلکہ شہری و زرعی سطح پر بھی پائیدار سہولیات فراہم کرے گا۔

760 میٹر طویل مہمند ڈیم کی تعمیر پر 309 ارب روپے کی لاگت آئی ہے۔ واپڈا کے مطابق، ڈیم میں 1.29 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش موجود ہے جبکہ اس سے سالانہ 2407 میگاواٹ بجلی پیدا ہوگی، جو قومی گرڈ میں خاطرخواہ اضافہ کرے گی۔

ڈیم کی تکمیل سے پشاور شہر کو روزانہ 300 ملین گیلن صاف پینے کا پانی دستیاب ہوگا، جسے شہریوں کے لیے ایک بڑا ریلیف قرار دیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، 18 ہزار ایکڑ سے زائد زرعی زمین کو سیراب کرنے کا بندوبست بھی کیا گیا ہے، جس سے علاقے میں زرعی پیداوار میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔

ماحولیاتی تحفظ اور سیلاب سے بچاؤ کے تناظر میں یہ منصوبہ نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ سینئر انجینئرز کے مطابق، مہمند ڈیم کی تعمیر سے پشاور، چارسدہ اور نوشہرہ جیسے حساس اضلاع کو ممکنہ سیلابی خطرات سے محفوظ بنایا جا سکے گا، جس سے سالانہ ڈیڑھ ارب روپے تک کا مالی نقصان روکا جا سکے گا۔

ماہرین کے مطابق، مہمند ڈیم نہ صرف پاکستان کے آبی وسائل کے بہتر استعمال کی جانب ایک اہم قدم ہے بلکہ یہ منصوبہ مقامی معیشت، ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول میں بھی مرکزی کردار ادا کرے گا۔

Scroll to Top