لاہور ہائیکورٹ بار کیلئے پختونخوا حکومت کی جانب سے مزید 5 کروڑ کی منظوری، ایمل ولی خان کا سخت ردعمل

پشاور:خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کو مزید 5 کروڑ روپے امداد دینے کی منظوری کابینہ ایجنڈے میں شامل کرلی گئی ہے، جس پر عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان نے شدید ردعمل دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام کے ٹیکس کا پیسہ “تحریکِ انصاف کے سیاسی دوستوں” میں بندر بانٹ کیا جا رہا ہے۔

ایمل ولی خان نے کہا پختونخوا کے سرکاری خزانے کا جنازہ دھوم سے نکل رہا ہے! کبھی لاہور کے وکلا کو کروڑوں، کبھی بنی گالا کے خرچے۔ عوام فاقہ کشی کا شکار ہیں، اسپتالوں میں دوائیں نہیں، اسکولوں میں اساتذہ اور بنیادی سہولیات نہیں، لیکن کروڑوں روپے لاہور کے نام پر غائب ہو رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس سے پہلے بھی خیبر پختونخوا حکومت لاہور ہائیکورٹ بار کو 3 کروڑ روپے دے چکی ہے اور اب مزید 5 کروڑ کی منظوری “سیاسی رشوت” کے مترادف ہے۔

ایمل ولی خان نے نیب اور دیگر احتسابی اداروں کی خاموشی پر سوال اٹھایا اور کہا کہ یہ ادارے صرف اپوزیشن اور سیاسی انجینئرنگ کے لیے ہیں؟ جب اقتدار میں بیٹھے لوگ عوامی خزانے کو لوٹ رہے ہیں تو احتسابی ادارے تماشائی کیوں بنے ہوئے ہیں؟

سینیٹر ایمل ولی خان نے پی ٹی آئی کے ان کارکنان کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جنہوں نے “آزادی” کے نام پر ووٹ دیا اور آج ان کے نمائندے “نوٹ چھاپنے” میں مصروف ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :3 روز میں ملک بھر کے 81 فیصد بچوں کی پولیو ویکسینیشن مکمل ہوگئی،این ای او سی

انہوں نے مطالبہ کیا کہ خیبر پختونخوا کے عوام کی دولت کی بندر بانٹ بند کی جائے، تمام غیر ضروری رقوم کی ادائیگی پر فوری پابندی لگائی جائے، اور ایک شفاف انکوائری کے ذریعے ان “سیاسی تحائف” کی حقیقت عوام کے سامنے لائی جائے۔

Scroll to Top