وفاقی بجٹ میں خیبرپختونخوا کو نظرانداز کرنا ناقابلِ قبول ہے،سابق ایم پی اے

پشاور: سابق رکن صوبائی اسمبلی شگفتہ ملک نے وفاقی بجٹ 2025-26 میں لگائے گئے ٹیکسز کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے، خاص طور پر سولر پینلز پر 18 فیصد ٹیکس کو ظالمانہ اقدام قرار دیتے ہوئے فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

پختون ڈیجیٹل پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے شگفتہ ملک نے کہا کہ ملک میں سخت گرمی، بدترین لوڈشیڈنگ اور مہنگائی کے دور میں عوام پر مزید بوجھ ڈالنا کسی صورت قابل قبول نہیں۔انہوں نے کہا کہ بجٹ میں عام آدمی کے لیے کوئی ریلیف نہیں دیا گیا بلکہ الٹا مشکلات میں اضافہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور پر بھی کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسلام آباد صرف چائے پینے گئے تھے یا صوبے کا مقدمہ بھی پیش کیا؟ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ کی ترجیحات قومی نہیں بلکہ ذاتی مفادات تک محدود ہیں۔

شگفتہ ملک نے کہا کہ وفاق کی جانب سے خیبرپختونخوا کے ساتھ غیرسنجیدہ رویہ اور بجٹ میں مسلسل نظراندازی افسوسناک ہے۔ ان کے مطابق صوبے کو درپیش مالی بحران، تنخواہوں، پنشنز اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈز کی عدم دستیابی پر وفاقی حکومت کو فوری توجہ دینی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا میں دھڑے بندی کے بعد سیاسی بحران شدت اختیار کر گیا: ثمر ہارون بلور

انہوں نے مطالبہ کیا کہ سولر پینلز پر عائد ٹیکس کو فی الفور ختم کیا جائے اور بجٹ میں عام عوام کو ریلیف دیا جائے تاکہ بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ میں کچھ کمی لائی جا سکے۔

Scroll to Top