157 ارب کا سرپلس یا کرپشن کا پردہ؟ اپوزیشن کا خیبرپختونخوا حکومت پر بڑا الزام

157 ارب کا سرپلس یا کرپشن کا پردہ؟ اپوزیشن کا خیبرپختونخوا حکومت پر بڑا الزام

خیبرپختونخوا اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں نے مالی سال 2025-26 کے لیے پیش کیے گئے صوبائی بجٹ کو ’’عوام دشمن‘‘ قرار دیتے ہوئے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اپوزیشن اراکین نے حکومت پر کرپشن چھپانے، فنڈز کی غیر منصفانہ تقسیم اور شفافیت کے فقدان کے الزامات بھی عائد کیے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر ڈاکٹر عباد اللہ نے بجٹ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اپوزیشن سے مثبت تجاویز تو مانگ رہی ہے، مگر گزشتہ بجٹ میں دی گئی ایک بھی تجویز پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔ انہوں نے شکوہ کیا کہ اپوزیشن کو ایک پیسے کا بھی ترقیاتی فنڈ نہیں دیا گیا۔ ’’کیا ہمارے حلقے خیبرپختونخوا کا حصہ نہیں؟‘‘ انہوں نے سوال کیا۔

ڈاکٹر عباد اللہ نے وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کے مبینہ ذاتی حملوں پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ طرزِ سیاست مناسب نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ان پر ایک پیسے کی کرپشن بھی ثابت ہو جائے تو وہ خود کو چوک میں لٹکانے کے لیے تیار ہیں، تاہم موجودہ حکومت نے کرپشن کے نئے ریکارڈ قائم کیے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ آئندہ چند روز میں کرپشن کے ٹھوس شواہد ایوان میں پیش کیے جائیں گے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر احمد کریم کنڈی نے بجٹ کو ’’جعلی اور گمراہ کن‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ 157 ارب روپے کا سرپلس بجٹ پیش کرنا عوام کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ حکومت نے بجٹ میں اصل مالیاتی اعدادوشمار کا پورا کالم ہی غائب کر دیا ہے تاکہ اپنی ناقص کارکردگی کو چھپایا جا سکے۔

احمد کریم کنڈی نے الزام لگایا کہ مسجدوں کے سولر منصوبوں میں بھی بدعنوانی کی گئی ہے اور کوہستان مالیاتی اسکینڈل اس کرپشن کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت یوتھ پالیسی دینے میں ناکام رہی ہے، جبکہ صحت کارڈ کی سہولت کا بڑا حصہ امیر طبقے نے استعمال کیا ہے، جو نظام کی نااہلی کو ظاہر کرتا ہے۔

رکن صوبائی اسمبلی احسان اللہ میاں خیل نے دعویٰ کیا کہ ضم شدہ اضلاع میں مختص فنڈز سے زائد رقم خرچ کی جا رہی ہے، جہاں متعدد ’’گھوسٹ پراجیکٹس‘‘ چل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان علاقوں میں کرپشن باقاعدہ منصوبہ بندی سے کی جا رہی ہے اور حکومت اس میں ملوث ہے۔

اپوزیشن جماعتوں نے مطالبہ کیا ہے کہ بجٹ کو ازسرنو مرتب کیا جائے، تمام حلقوں کو مساوی فنڈز دیے جائیں، اور بدعنوانی کے الزامات کی شفاف تحقیقات کروائی جائیں۔

Scroll to Top