ہم ترقی نہیں، تنزلی کی راہ پر ہیں،ٹیکسوں سے بھرا بجٹ عوام پر ظلم ہے،فضل الرحمان کی حکومت پر کڑی تنقید

ہم ترقی نہیں، تنزلی کی راہ پر ہیں،ٹیکسوں سے بھرا بجٹ عوام پر ظلم ہے،فضل الرحمان کی حکومت پر کڑی تنقید

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے وفاقی بجٹ 2025-26 کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ بجٹ ٹیکسوں کے بوجھ سے دبا ہوا ہے، جسے کسی طور پر بھی قابل تحسین نہیں کہا جا سکتا۔

کراچی میں خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ’’کسی زمانے میں ہم فری ٹیکس بجٹ کو قابلِ تعریف سمجھتے تھے، مگر آج ٹیکس پر ٹیکس لگا کر اسے قابل تحسین قرار دیا جا رہا ہے، جو ایک عجیب منطق ہے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ پاکستان پورے خطے میں واحد ملک ہے جو ترقی کی بجائے زوال کی راہ پر گامزن ہے۔ ’’باقی تمام ممالک آگے بڑھ رہے ہیں، مگر ہم نیچے جا رہے ہیں، یہ ایک لمحہ فکریہ ہے۔‘‘

فضل الرحمان نے احتسابی نظام پر بھی سوالات اٹھائے اور کہا، ’’ہمارے ملک میں اگر کوئی شخص تھوڑا بہت کما لے تو فوراً اس کے خلاف فائلیں کھول دی جاتی ہیں۔ ہم محنت کش طبقے کو احتساب کے نام پر خوفزدہ کر رہے ہیں، جو کہ معاشی ترقی کے لیے نقصان دہ رویہ ہے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ ضیاء الحق کے دور سے لے کر آج تک صنعتکار طبقہ کھلاڑی بن کر سامنے آیا ہے، اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ بجٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا، ’’یہ بجٹ عوامی ریلیف کے بجائے ٹیکسوں کے ذریعے بوجھ ڈالنے کی مشق ہے۔ یہ عام آدمی کے لیے نہیں، بلکہ اشرافیہ کی ترجیحی پالیسیوں کا عکس ہے۔‘‘

مولانا فضل الرحمان نے حکومت پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر غریب اور متوسط طبقے کے لیے ریلیف پیکیجز کا اعلان کرے، بصورتِ دیگر معیشت کے ساتھ ساتھ معاشرت بھی تباہی کے دہانے پر پہنچ جائے گی۔

Scroll to Top