غریبوں کے لیے بجٹ مذاق، اشرافیہ کی تنخواہیں بڑھ گئیں، ایمل ولی خان

عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے سربراہ سینیٹر ایمل ولی خان نے وفاقی بجٹ 2024-25 پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بجٹ سازوں نے 60 فیصد پاکستانی عوام سے جینے کا حق چھین لیا ہے۔ انہوں نے اسے غریب عوام کے ساتھ ’’کھلا مذاق’’ اور ‘‘بےحسی کی انتہا‘‘ قرار دیا۔

سینیٹ اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے ایمل ولی خان نے کہا کہ موجودہ بجٹ عوام کی مشکلات میں کمی کے بجائے ان کی تذلیل کا باعث بنا ہے۔ انہوں نے اس بات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا کہ بجٹ میں چیئرمین سینیٹ اور اسپیکر قومی اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافہ کیا گیا، جب کہ عام شہری مہنگائی کے بوجھ تلے دبے جا رہے ہیں۔

اے این پی کے سربراہ نے مزید کہا کہ اگر بانی چیئرمین پی ٹی آئی کو واقعی سیاسی قیدی تصور کیا جا رہا ہے تو انہیں فوری طور پر رہا کیا جانا چاہیے۔

سینیٹ میں بجٹ پر جاری بحث کے دوران پیپلز پارٹی کے سینیٹر وقار مہدی نے بھی سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ بجٹ عوام کی امیدوں کا آئینہ دار نہیں بلکہ مایوسی کا پیغام ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے فیصلوں پر نہ کوئی چیک ہے نہ بیلنس، اور زمینی حقائق کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ بازاروں میں دکانداروں نے 18 فیصد سولر ٹیکس پہلے ہی لاگو کر دیا ہے، جو عوام پر مزید بوجھ کا سبب بن رہا ہے۔ وقار مہدی نے تجویز دی کہ وزیر خزانہ کو ایک دن کے لیے عوام کے درمیان جانا چاہیے تاکہ انہیں حقیقی صورتِ حال کا اندازہ ہو۔

سینیٹ میں جاری اس تنقیدی بحث سے واضح ہوتا ہے کہ موجودہ بجٹ کو اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے سخت مخالفت کا سامنا ہے، اور عوامی سطح پر بھی اس کے اثرات شدید محسوس کیے جا رہے ہیں۔

Scroll to Top