مسلم لیگ ن کی خاتون ممبر خیبرپختونخوا اسمبلی صوبیہ شاہد نے کہا ہے کہ ایلیمنٹری ایجوکیشن کا گزشتہ سال بجٹ 336 ارب روپے تھا جس میں سے صرف 14 فیصد استعمال ہوا۔
اسپیکر بابر سلیم سواتی کی زیر صدارت خیبرپختونخوا اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبیہ شاہد نے کہاکہ سی ایم سیکرٹریٹ کے اخراجات ترقیاتی اخراجات سے 12 فیصد زیادہ ہوئے۔ پی ٹی آئی کی نااہلی ہے کہ صوبے کو مقروض کر دیا گیا ہے۔ سالانہ صوبے کی آمدن 8 فیصد سے کم ہے جبکہ اخراجات 12 فیصد سے بڑھ چکے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ فنڈز کا عدم استعمال حکومت کی نااہلی ہے۔ ایلیمنٹری ایجوکیشن کا گزشتہ سال بجٹ 336 ارب روپے تھا، جس میں سے صرف 14 فیصد استعمال ہوا۔ ڈھائی ہزار اسکول باؤنڈری وال اور دیگر سہولیات سے محروم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کی اپنے حلقے کی گومل یونیورسٹی میں تنخواہیں نہیں ملی ہیں۔ ریگی ماڈل ٹاؤن زون 1 اور 2 میں کوئی ترقیاتی کام نہیں ہوئے۔ رمضان پیکج کے نام پر 10 ارب روپے بطور رشوت ورکرز کو دیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں :خیبرپختونخوا میں جمعے سے پیر تک تیز آندھی، جھکڑ اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان
صوبیہ شاہد نے کہا کہ وزیر اعلیٰ نے خود کہا کہ جو کرپشن کرے یا رشوت لے گا اس کے سر پر اینٹ مارو۔ وزیر اعلیٰ خود عورتوں کی طرح بددعائیں دیتا ہے۔





