عمر ایوب کا پنشن پر ٹیکس لگانے پر اعتراض، کمیٹی میں تحفظات کا اظہار

عمر ایوب کا پنشن پر ٹیکس لگانے پر اعتراض، کمیٹی میں تحفظات کا اظہار

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں سالانہ ایک کروڑ روپے سے زائد پنشن حاصل کرنے والوں پر ٹیکس عائد کرنے کی تجویز منظور کر لی گئی ہے، تاہم اپوزیشن لیڈر عمر ایوب اور دیگر ارکان نے اس فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

اجلاس کے دوران چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ جن افراد کی پنشن سالانہ ایک کروڑ روپے سے زائد ہے، ان پر 5 فیصد انکم ٹیکس لاگو کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایک کروڑ روپے تک کی پنشن پر کوئی ٹیکس نہیں ہوگا۔

چیئرمین ایف بی آر نے مزید کہا کہ دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک، بشمول بھارت، میں بھی پنشن پر ٹیکس عائد کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق، جو افراد ماہانہ ساڑھے 8 لاکھ روپے پنشن وصول کر رہے ہیں، انہیں قومی آمدن میں اپنا حصہ ڈالنا چاہیے۔

تاہم، اس تجویز پر کمیٹی کے بعض ارکان نے اختلاف رائے کا اظہار کیا۔ اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر دنیا کے اصولوں کو اپنانا ہے تو ایف بی آر کو بھی انہی اصولوں کے مطابق شفاف اور مؤثر انداز میں چلایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ صرف پنشنرز کو نشانہ بنانا درست نہیں۔

کمیٹی کے رکن محمد جاوید نے بھی اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے ایسا تاثر مل رہا ہے کہ مستقبل میں شاید 1 لاکھ روپے ماہانہ پنشن پر بھی ٹیکس عائد کر دیا جائے گا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ججز کے سوا کسی سرکاری ملازم کی پنشن ایک کروڑ روپے سالانہ سے زیادہ نہیں ہوتی، لہٰذا اس قانون کا دائرہ محدود رہے گا۔

اجلاس میں پیش کیے گئے نکات سے واضح ہوا کہ حکومت کا مؤقف ہے کہ بلند آمدنی والے پنشنرز پر معمولی ٹیکس سے قومی خزانے کو فائدہ پہنچے گا، جبکہ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے پنشنرز کا اعتماد متاثر ہو سکتا ہے اور مستقبل میں اس کی نظیر قائم کی جا سکتی ہے۔

Scroll to Top