وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے حالیہ بارشوں اور دریائے سوات میں سیلابی ریلے کے نتیجے میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے رپورٹ طلب کر لی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے سوات اور صوبے کے بالائی علاقوں میں شدید بارشوں اور سیلابی صورتحال کے باعث ہونے والے جانی و مالی نقصانات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔
وزیراعلیٰ امین گنڈا پور نے کہا ہے دریائے سوات میں سیلابی ریلے کی زد میں آ کر متعدد افراد لاپتہ ہوئے جن کی تلاش کے لیے ریسکیو 1122 اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے مختلف مقامات پر سرچ آپریشن جاری ہے۔
علی امین گنڈاپور نے کہا کہ اب تک چار افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ تیز پانی کے بہاؤ کے باوجود امدادی سرگرمیاں بھرپور طریقے سے جاری ہیں۔
وزیراعلیٰ کے پی نے نے ریسکیو اداروں کو ہدایت کی کہ تمام تر وسائل بروئے کار لاتے ہوئے لاپتہ افراد کی تلاش اور امدادی کارروائیاں مزید تیز کی جائیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کو پہلے ہی الرٹ جاری کیے جا چکے تھے اور عوامی سلامتی کے پیش نظر ان پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔
انہوں نے سیاحوں اور مقامی آبادی کو ہدایت کی کہ وہ مون سون سیزن کے دوران ندی نالوں، دریاؤں اور نشیبی علاقوں سے دور رہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دریائے سوات میں طغیانی، درجن سے زائد سیاح ڈوب گئے
وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر خیبر پختونخوا میں فلڈ سیل قائم کر دیا گیا ہے، ترجمان وزیر اعلیٰ نے کہا ہے کہ عوام کسی بھی ہنگامی صورتحال کی اطلاع کے لیے جاری کردہ نمبروں پر فوری رابطہ کریں اور ممکنہ بارش یا سیلاب کے پیش نظر حفاظتی تدابیر پر سختی سے عمل کریں۔





