پشاور:چیف سیکریٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ کی زیر صدارت صوبے میں گورننس سے متعلق اہم امور پر اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں سیلابی خطرات، ریسکیو سسٹم کی بہتری، تجاوزات کے خاتمے اور دیگر انتظامی اقدامات پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔
اجلاس میں ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122، محکمہ سیاحت، ماحولیات اور دیگر متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔اجلاس میں سیلابی صورتحال سے بروقت نمٹنے اور ارلی رسپانس سسٹم کو مزید مؤثر بنانے کے لیے کئی اہم فیصلے کیے گئے۔
فیصلہ کیا گیا کہ ڈرونز اور جدید آلات کے زریعے ریسکیو اور ریلیف آپریشنز کو تیز اور مؤثر بنایا جائے گا۔
چیف سیکریٹری نے متعلقہ محکموں کو ہدایت دی کہ دریاؤں کے کنارے غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات کے خلاف بلا تفریق کارروائی جاری رکھی جائے، اس ضمن میں ڈی مارکیشن کا عمل فوری طور پر شروع کیا جائے تاکہ خطرناک مقامات کی نشاندہی اور قانونی کارروائی آسان ہو۔
انہوں نے ریسکیو اہلکاروں کی پیشہ ورانہ تربیت کے لیے ماک ڈرلز کے تسلسل کو برقرار رکھنے کی ہدایت دی، جبکہ مقامی کمیونٹی کو بھی ایمرجنسی رسپانس کی تربیت دینے کا فیصلہ کیا گیا۔
اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ تمام محکمے سیلاب کے ہاٹ سپاٹس پر اپنی موجودگی یقینی بنائیں گے۔ چیف سیکریٹری نے ریسکیو 1122 میں بھرتیوں کو مکمل میرٹ پر یقینی بنانے کی ہدایت بھی جاری کی۔
اس موقع پر ندی نالوں کی صفائی کے عمل کو جاری رکھنے اور تمام کمشنرز کو فلڈ ریسپانس پلان کا ازسرنو جائزہ لینے کی ہدایت کی گئی۔ انہوں نے واضح کیا کہ دریاؤں کے اطراف دفعہ 144 کا نفاذ یقینی بنایا جائے، اور عوام کو دریا کے قریب جانے سے روکنے کے لیے آگاہی مہم تیز کی جائے۔
چیف سیکریٹری نے کہا کہ سیاحتی علاقوں کے ہوٹلز کو لائف جیکٹس اور دیگر حفاظتی آلات رکھنا لازمی قرار دیا جائے، جبکہ محکمہ سیاحت سیاحوں کو باقاعدگی سے ٹریول ایڈوائزری جاری کرے۔
اجلاس میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ ریور بیڈز پر جاری تمام این او سیز کا ازسر نو جائزہ لیا جائے، اور خلافِ ضابطہ این او سیز جاری کرنے والے افسران کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔عوام کو بروقت خبردار کرنے کے لیے “ریلیف پلس” ایپ کے ذریعے وارننگ سسٹم کو ڈیجیٹائز کرنے کی ہدایت دی گئی، جبکہ سوشل میڈیا، ایس ایم ایس اور دیگر ذرائع سے الرٹس جاری کیے جائیں گے تاکہ ہنگامی صورتحال میں بروقت اطلاع دی جا سکے۔
چیف سیکریٹری نے اعلان کیا کہ اضلاع میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریلیف کا دفتر فرسٹ ریسپانس یونٹ کے طور پر کام کرے گا، جو کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری ایکشن لے گا۔
اجلاس کے دوران حکام کی جانب سے قیمتوں کے کنٹرول، سیوریج نظام کی بہتری، ماحولیات کے تحفظ، ترقیاتی منصوبوں اور پروکیورمنٹ سے متعلق بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں :پشاور،ملک میں انصاف اور آئین کی بالادستی نہیں ،شیخ وقاص اکرم
بتایا گیا کہ سیاحتی مقامات پر 224 ہوٹلز نے سیوریج سسٹم بہتر کیا ہے، جبکہ دیگر پر کارروائی جاری ہے۔چیف سیکریٹری نے ہدایت کی کہ تمام اقدامات پر موثر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کے جان و مال کا تحفظ ہر صورت ممکن ہو سکے۔





