پشاور:پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نےپریس کانفرنس کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ 8 فروری کے عام انتخابات میں تحریک انصاف کا مینڈیٹ منظم سازش کے تحت چوری کیا گیا، اور ملک کو آئینی بحران کی طرف دھکیلا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج کا پاکستان جھوٹ، ناانصافی اور دھاندلی کی علامت بن چکا ہے جہاں عوام کی رائے کو نظرانداز کر کے زبردستی ایک جعلی حکومت مسلط کی گئی ہے۔
شیخ وقاص اکرم کے مطابق، تحریک انصاف نے قومی اسمبلی میں 180 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی، لیکن ریاستی اداروں اور سیاسی مخالفین نے ساز باز کر کے محض 110 نشستوں کو بنیاد بنا کر حکومتی بندوبست قائم کر دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ صرف تحریک انصاف کے ساتھ زیادتی نہیں، بلکہ پاکستان کے کروڑوں ووٹرز کے ساتھ کھلا ظلم ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ پی ڈی ایم اور اسٹیبلشمنٹ نے مل کر انتخابی نتائج میں رد و بدل کیا، جس کے بعد سندھ ہاؤس میں عوامی نمائندوں کی بولیاں لگیں، اور عوامی مینڈیٹ کو مالِ غنیمت سمجھ کر تقسیم کیا گیا۔
پریس کانفرنس کے دوران شیخ وقاص اکرم نے سپریم کورٹ اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر بھی شدید تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت نے تحریک انصاف سے “بلا” کا انتخابی نشان چھین کر پاکستان کی عدالتی تاریخ کو داغدار کیا۔ ان کے بقول، یہ اقدام ذاتی عناد، تعصب اور سیاسی انتقام کا شاخسانہ تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ مخصوص نشستوں کے حوالے سے کوئی قانونی جواز موجود نہیں تھا، مگر عدالتی فیصلوں کے ذریعے پی ٹی آئی امیدواروں کو زبردستی آزاد قرار دے کر نشستیں دیگر جماعتوں کو دے دی گئیں۔
شیخ وقاص نے سوال اٹھایا کہ خیبرپختونخوا میں پیپلز پارٹی نے صرف ایک نشست جیتی، پھر انہیں دو مخصوص نشستیں کس بنیاد پر دی گئیں؟ اسی طرح جمیعت علمائے اسلام کو 7 نشستوں کے باوجود 10 سے زائد مخصوص نشستیں مل گئیں، جو کہ جمہوری اور انتخابی اصولوں کے خلاف ہے۔
پریس کانفرنس میں انہوں نے بانی تحریک انصاف کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر بھی شدید احتجاج کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کو تنہا آئسولیشن میں رکھا گیا ہے، ان کے اہل خانہ اور وکلا کو ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی، حالانکہ عدالتی احکامات واضح ہیں۔ “وفاقی حکومت بانی تحریک انصاف سے خوفزدہ ہے، اسی لیے آئینی و قانونی احکامات کے باوجود ان کے بنیادی انسانی حقوق سلب کیے جا رہےہیں۔
شیخ وقاص اکرم نے پنجاب اسمبلی میں بجٹ سیشن کے دوران ہونے والے احتجاج کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ جب کسان دشمن اور عوام دشمن بجٹ پیش کیا جائے گا تو احتجاج ناگزیر ہوتا ہے، انہوں نے 26 اراکین اسمبلی کی معطلی کو بدترین انتقامی کارروائی قرار دیا اور کہا کہ محض شور شرابہ کرنے پر ارکان کو کئی مہینوں کے لیے معطل کرنا جمہوریت کا مذاق ہے۔
ان کا کہنا تھاکہ ایسی صورتحال میں اسمبلی میں جوتے چلنے چاہئیں تھے، کیونکہ یہ لوگ جوتوں کے قابل ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ان تمام حقائق کو نظر انداز کیا گیا اور حالات کا درست ادراک نہ کیا گیاتو وقت ہاتھ سے نکل جائے گا۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ تحریک انصاف کے مینڈیٹ کو تسلیم کیا جائے، بانی تحریک انصاف کو بنیادی حقوق دیے جائیںاور انتخابی عمل کو شفاف اور غیر جانبدار بنایا جائے۔





