خیبر پختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان سے پولیو کا ایک اور کیس سامنے آ گیا ہے، جس کے بعد رواں سال ملک بھر میں پولیو سے متاثرہ بچوں کی تعداد 14 ہو گئی ہے۔ نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر (این ای او سی) کے مطابق یہ کیس شمالی وزیرستان کی یونین کونسل سے رپورٹ ہوا، جہاں 19 ماہ کا بچہ پولیو وائرس کا شکار ہوا۔
پولیو ریفرنس لیبارٹری نے وائرس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ متاثرہ بچے میں معذوری کے آثار ظاہر ہوئے ہیں۔ این ای او سی کے مطابق خیبر پختونخوا میں اب تک 8 کیسز، سندھ میں 4، جبکہ پنجاب اور گلگت بلتستان سے ایک، ایک کیس رپورٹ ہو چکا ہے۔
پولیو کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے شمالی وزیرستان کی 11 یونین کونسلز میں جلد خصوصی انسدادِ پولیو مہم شروع کی جائے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ علاقے میں گھر گھر جا کر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے۔
نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر نے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ ہر مہم میں اپنے پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو کے قطرے ضرور پلوائیں تاکہ اُنہیں زندگی بھر کی معذوری سے بچایا جا سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پولیو وائرس کی مکمل روک تھام کے لیے ہر بچے کو حفاظتی قطرے پلانا ناگزیر ہے، اور اس سلسلے میں عوام کا تعاون انتہائی اہم ہے۔





