ایم پی اے نثار باز خان کا فاٹا جرگہ بحالی کمیٹی کے اجلاس سے بائیکاٹ کا اعلان

پشاور :عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے رکن صوبائی اسمبلی نثار باز خان نے سابقہ قبائلی اضلاع کے حوالے سے وفاقی حکومت کی جانب سے قائم کردہ فاٹا جرگہ بحالی کمیٹی کے اجلاس کا بائیکاٹ کرتے ہوئے اسے فاٹا مرجر کے خلاف ایک منظم سازش قرار دیا ہے۔

نثار باز خان کا کہنا تھا کہ مرجر کے وقت قبائلی عوام سے کیے گئے وعدے آج تک پورے نہیں کیے گئے۔ اُن کے مطابق ریاستی ادارے اور وفاقی حکومت، خصوصاً پنجاب کی اشرافیہ، فاٹا کے انضمام کو واپس لینے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ جرگہ سسٹم کو قانونی حیثیت دینے کی آڑ میں قبائلی علاقوں کی قیمتی معدنیات پر قبضے کی راہ ہموار کی جا رہی ہے، جو کہ آئین کی 18ویں اور 25ویں ترامیم کے خلاف ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات نہ صرف پارلیمانی بالادستی کو چیلنج کرتے ہیں بلکہ صوبائی خودمختاری پر بھی حملہ ہیں۔ نثار باز خان نے یاد دلایا کہ اے این پی نے ماضی میں بھی مائنز اینڈ منرلز بل جیسے اقدامات کی مخالفت کی تھی، اور آج بھی پارٹی اسی مؤقف پر قائم ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ فاٹا کے عوام مرجر کے ثمرات سے محروم ہیں اور ایک بار پھر انہیں استحصال اور پسماندگی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ وفاقی حکومت اگر واقعی مخلص ہے تو اسے 25ویں آئینی ترمیم کے وقت کیے گئے وعدوں کو پورا کرنا چاہیے، نہ کہ غیر آئینی کمیٹیوں کے ذریعے عوامی حقوق کو پامال کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں : پی ٹی آئی کے تمام ایم این ایز اور ایم پی ایز نے فاٹا جرگہ بحالی کمیٹی کے اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا

نثار باز خان نے بتایا کہ اے این پی کے مرکزی صدر ایمل ولی خان کی ہدایت پر انہوں نے اس کمیٹی کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے اور کسی بھی اجلاس یا مشاورت میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ نہ صرف پارٹی کی پالیسی کی عکاسی کرتا ہے بلکہ فاٹا کے عوام کے حقوق کے تحفظ کے عزم کا اظہار بھی ہے۔

Scroll to Top