اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ افغانستان کے ساتھ سرحدی انتظامات بھی ایران کی طرز پر ہونے چاہئیں تاکہ غیرقانونی سرگرمیوں پر مؤثر طریقے سے قابو پایا جا سکے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ افغانستان سے آنے والے بیشتر افراد غیرقانونی کاروبار میں ملوث ہیں اور کئی افغان شہریوں نے پاکستان کے مختلف علاقوں میں ٹرانسپورٹ، رہائش اور دیگر شعبوں پر غیرقانونی طور پر قبضہ کر رکھا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اب بھی ایک سے ڈیڑھ لاکھ افغان شہری موجود ہیں جن میں سے کئی نے غیرقانونی کالونیاں بھی قائم کر رکھی ہیں۔
وزیر دفاع نے کہا کہ دہشت گردی کے واقعات کی ذمہ داری اداروں پر ڈالنا سراسر غلط ہے۔ انہوں نے پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما علی امین گنڈا پور اور ان کی جماعت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے لیڈر نے خود خیبرپختونخوا میں دہشت گردوں کو بسایا۔
انہوں نے کہا کہ علی امین گنڈا پور کی جانب سے وفاقی حکومت اور اداروں پر تنقید قابلِ مذمت ہے، اور وفاق اس کا ضرور جواب دے گا۔
خواجہ آصف نے دعویٰ کیا کہ خود پی ٹی آئی کے اندرونی حلقے بھی علی امین پر ’دونمبری‘ کے الزامات لگا رہے ہیں، اس لیے ایسے بیانات کو سنجیدہ نہیں لینا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں : احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے، سیاسی انتقام بند کیا جائے، گورنر خیبرپختونخوا
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے افغانستان کے ساتھ سفارتی تعلقات موجود ہیں، اور کابل میں پاکستانی سفارت خانہ فعال ہے، تاہم بارڈر مینجمنٹ کو سخت کرنے کی ضرورت ہے تاکہ سیکیورٹی اور ریاستی رٹ کو بہتر بنایا جا سکے۔





