وادی کالام میں تحصیل بحرین انتظامیہ کے خلاف مقامی افراد کی جانب سے احتجاجی دھرنا جاری ہے۔
مظاہرین نے انتظامیہ کی مبینہ زیادتیوں اور مداخلت کے خلاف مین شاہراہ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا ہے جس کے باعث علاقے میں سیاحوں اور مقامی شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
احتجاج میں شریک افراد کا کہنا ہے کہ تحصیل بحرین انتظامیہ مقامی جنگلات اور کاروباری مراکز میں بلاجواز مداخلت کر رہی ہے اور مقامی افراد کے خلاف ایف آئی آرز درج کی جا رہی ہیں جو کسی صورت قبول نہیں۔
مظاہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ انتظامیہ نے مقامی نوجوانوں کو غیرقانونی طور پر حراست میں رکھا، جو قابلِ مذمت ہے۔
مظاہرین نے واضح موقف اختیار کیا ہے کہ وہ غیر آباد اراضی اور جنگلات پر اپنے آباؤ اجداد کے مالکانہ حقوق تسلیم کرانے کے لیے سراپا احتجاج ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ اسسٹنٹ کمشنر بحرین مقامی عمائدین سے باضابطہ معافی مانگیں اور مداخلت کا سلسلہ بند کیا جائے۔
دھرنے میں شریک افراد نے اعلان کیا ہے کہ جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتےاحتجاج جاری رہے گا اور شاہراہ بند رہے گی۔
دوسری جانب اسسٹنٹ کمشنر بحرین کا کہنا ہے کہ مظاہرین کے تحفظات کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے اور مقامی عمائدین سے رابطے میں ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ مذاکرات کے لیے جرگہ تشکیل دیا گیا ہے اور پرامن حل کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : لکی مروت: امن و امان کے حوالے سے اعلیٰ سطح گرینڈ جرگہ کا انعقاد
احتجاج کے باعث کالام کی مرکزی شاہراہ کی بندش سے علاقے میں سیاحتی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں اور ملک بھر سے آنے والے سیاح شدید پریشانی کا شکار ہیں۔





