ضم شدہ قبائلی اضلاع بنیادی سہولیات سے محروم، وعدے وفا نہ ہوئے، سردار حسین بابک

پشاور: عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے سینئر رہنما سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ ضم شدہ قبائلی اضلاع آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں اور حکومت پر لازم ہے کہ ان علاقوں کو ترجیحی بنیادوں پر توجہ دے۔

ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ ہر سال 100 ارب روپے ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کیے جائیں گے، لیکن تاحال یہ وعدے محض زبانی دعوؤں تک محدود ہیں۔

پختون ڈیجیٹل پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے سردار حسین بابک نے کہا کہ ان علاقوں کی جغرافیائی اہمیت بہت زیادہ ہے کیونکہ افغانستان کے ساتھ تجارت کے بیشتر راستے انہی اضلاع سے گزرتے ہیں۔

اس لیے سرحدی گزرگاہوں کو فوری طور پر فعال کیا جانا چاہیے تاکہ مقامی معیشت کو تقویت ملے۔انہوں نے کہا کہ فاٹا انضمام کے بعد ان علاقوں کو نہ صوبے میں پوری طرح شامل کیا جا رہا ہے اور نہ ہی وفاق میں نمائندگی دی جا رہی ہے، جس کے باعث معاملہ سنگین نتائج کی طرف بڑھ رہا ہے۔

بابک کے مطابق وزیرستان میں لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے ہیں، جو ریاستی عدم توجہی کا واضح اظہار ہے۔

یہ بھی پڑھیں : علی امین گنڈاپور جذباتی بیانات دیتے ہیں، مگر جمہوری راستہ اپنائیں گے، ساجد مہمند

سردار حسین بابک نے اس بات پر بھی تنقید کی کہ اگر خیبر پختونخوا کے لیے کوئی جرگہ تشکیل دیا جاتا ہے تو اس میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو شامل ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ انضمام کے وقت جو وعدے کیے گئے تھے وہ آج تک پورے نہیں ہوئے، اور اب ضم شدہ اضلاع سے متعلق جو جرگہ بنایا گیا ہے، وہ صوبائی خودمختاری میں مداخلت کے مترادف ہے۔

Scroll to Top