اے این پی کی دریائے سوات پر سینیٹ میں تحریک التواء، غیر قانونی این او سیز و غفلت پر انکوائری کا مطالبہ

اسلام آباد :عوامی نیشنل پارٹی نے سینیٹ میں دریائے سوات سے متعلق تحریکِ التواء جمع کرائی ہے جس میںدریائے سوات کی مسلسل حکومتی عدم توجہی، بدانتظامی، اور غیر قانونی این او سیز کے اجرا پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔

تحریک التواء سینیٹر ایمل ولی خان کی جانب سے جمع کروائی گئی ہے۔

تحریک التواء میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ دریائے سوات طویل عرصے سے حکومتی عدم توجہی اور بدانتظامی کا شکار ہے، اب تک دریا کی باقاعدہ حدبندی نہیں کی گئی، اور پشتوں کی عدم تعمیر کے باعث ہر سال سیلابی صورتحال پیدا ہوتی ہے۔

تحریک التواء میں کہا گیا ہے کہ دریا کے اردگرد متعدد غیر قانونی تعمیرات کے لیے این او سیز جاری کیے گئے، جن کی قانونی حیثیت اور شفافیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں، ان این او سیز کے اجرا کے ذمے دار اداروں، سفارش کنندگان، اور فائدہ اٹھانے والوں کی مکمل تفصیلات سامنے لائی جائیں۔

تحریک میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ این ڈی ایم اے، پی ڈی ایم اے اور ریسکیو 1122 نے ممکنہ سیلابی خطرات سے نمٹنے کے لیے کوئی عملی اقدامات کیے ہیں؟ کیا کوئی پیشگی وارننگ سسٹم یا ریور مانیٹرنگ نظام موجود ہے؟ اور کیا عوامی آگاہی یا مقامی حکومتوں کے اشتراک سے کوئی مربوط منصوبہ بندی کی گئی ہے؟

تحریک التواء میں دریائے سوات کی قانونی حدبندی اور حفاظتی پشتوں کی عدم تعمیر کی تحقیقات، غیر قانونی این او سیز کے اجرا کی شفاف انکوائری اور ملوث افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

این ڈی ایم اے، پی ڈی ایم اے اور ریسکیو 1122 کی کارکردگی پر ایوان کو بریفنگ اور ثابت شدہ غفلت پر اقدامات کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔

تحریک میں جامع ریور مینجمنٹ پالیسی کی تشکیل اور تمام اسٹیک ہولڈرز کی شمولیت یقینی بنانے، اور این او سی اجرا کے لیے شفاف اور ماحول دوست پالیسی کے قیام کا مطالبہ بھی شامل ہے۔

ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ یہ مسئلہ نہ صرف ماحولیاتی تباہی بلکہ انسانی جانوں، ریاستی اعتماد اور وسائل کے ضیاع سے براہ راست جڑا ہوا ہے، یہ ایوان کی آئینی و اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ اس سنگین معاملے پر سنجیدہ اور بروقت توجہ دے۔

Scroll to Top