پشاور(کامران علی شاہ )ڈپٹی کمشنر صوابی کی ویمن یونیورسٹی کی ویڈیوز ٹک ٹاک پر شیئر کرنے کے خلاف دائر درخواست پر سماعت، جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ اور جسٹس ڈاکٹر خورشید اقبال نے کی عدالت نے وائس چانسلر ویمن یونیورسٹی صوابی اور ڈپٹی کمشنر صوابی کو آئندہ سماعت پر طلب کرلیا۔
درخواست گزار وکیل محمد ہمدان ایڈوکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ ڈپٹی کمشنر صوابی نے ٹک ٹاک پر ویمن یونیورسٹی کی ویڈیوں شیئر کی ہے،ڈپٹی کمشنر صوابی کا یہ عمل بغیر اجازت کے انجام دیا گیا جس سے طالبات کی پرائیویسی متاثر ہوئی ہے، ویمن یونیورسٹی کے طالبات اور وہاں پر علاقے کے لوگوں نے بھی اس پر اعتراض کیا ہے۔
جسٹس صاحبزداہ اسد اللہ نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سے استفسار کرتے ہوئے کہا یہ کیا ہورہا ہے۔جس پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے جواب دیا کہ ہم نے جواب جمع کیا ہےجسٹس صاحبزادہ اسد اللہ نے وضاحت مانگی کہ کیا ویمن یونیورسٹی کا اس بارے میں کمنٹس آیا ہے، اور ویمن یونیورسٹی والے پیش کیوں نہیں ہورہے۔
درخواست گزار وکیل محمد ہمدان نے عدالت کو بتایا کہ حکومتی نوٹیفکیشن کے مطابق افسران کو ایکس ( ٹویٹر) اور فیس بک کی اجازت ہے،2018 میں یہ نوٹیفکیشن ہوا ہے، تاہم ڈپٹی کمشنر نے 2025 میں ذاتی ٹک ٹاک اکاونٹ پر ویمن یونیورسٹی کی ویڈیوں ڈال رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں :مولانا خانزیب کی شہادت ،میاں افتخار حسین کا تین روزہ سوگ کا اعلان
عدالت نے وی سی ویمن یونیورسٹی صوابی اور ڈپٹی کمشنر صوابی کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے سماعت 23 جولائی تک ملتوی کردی۔





