وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی زیر صدارت پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں متعلقہ صوبائی وزرا، چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹری، انتظامی سیکرٹریز اور کمیٹی کے دیگر اراکین نے شرکت کی۔
اجلاس میں صوبے میں نجی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے اہم فیصلے کیے گئے۔
پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت تین بڑے منصوبوں کے ٹرانزیکشن اسٹرکچرز کی اصولی منظوری دی گئی، جن میں گھنول انٹیگریٹڈ ٹوارزم زون، درابن اسپیشل اکنامک زون اور پی ڈی اے کمرشل کمپلیکس شامل ہیں۔
بریفنگ کے مطابق، گھنول انٹیگریٹڈ ٹوارزم زون ڈیزائن، بلڈ، آپریٹ اینڈ ٹرانسفر ماڈل کے تحت قائم کیا جائے گا۔ اس زون میں سیاحتی سہولیات سمیت تمام بنیادی ڈھانچے کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔
ابتدائی طور پر اس منصوبے کی لیز مدت 50 سال ہوگی، جسے مزید 50 سال کے لیے توسیع دی جا سکے گی۔ آمدن کی تقسیم کے لیے حکومت اور نجی شراکت دار کے مابین میکینزم تیار کیا جائے گا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ گھنول ٹوارزم زون سیاحت کے فروغ کے ساتھ ساتھ مقامی معاشی و سماجی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا، جب کہ نوجوانوں کے لیے روزگار اور ماحولیات کے تحفظ کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔
دوسری جانب درابن اسپیشل اکنامک زون 1,000 ایکڑ رقبے پر مشتمل ہوگا، جس میں 722 ایکڑ صنعتی اور 14.26 ایکڑ کمرشل سرگرمیوں کے لیے مختص ہوگا۔
اس منصوبے کو تین مراحل میں مکمل کیا جائے گا، جس پر 18 ارب روپے سے زائد لاگت آئے گی۔ زون کے قیام سے براہ راست 40 ہزار اور بالواسطہ ایک لاکھ 20 ہزار روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔
وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے کہا کہ یہ منصوبے صوبے میں صنعتی، سیاحتی اور تجارتی سرگرمیوں کے فروغ کے سنگ میل ثابت ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت نجی شعبے کی سرمایہ کاری کی مکمل حوصلہ افزائی کر رہی ہے، اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت منصوبوں پر مقررہ ٹائم لائنز کے مطابق پیشرفت کو یقینی بنایا جائے گا۔
انہوں نے موجودہ نظام میں اصلاحات کے ذریعے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔





