جماعت اسلامی خیبرپختونخوا نے ضم اضلاع بارے امیر مقام کی قیادت میں قائم کمیٹی مسترد کرتے ہوئے اسے آئین پاکستان کے منافی قرار دے دیا۔
جماعت اسلامی خیبرپختونخوا وسطی کے امیر عبدالواسع ،سابق سینئر صوبائی وزیر اور خیبرپختونخوا شمالی کے امیر عنایت اللہ خان نے پشاور پریس کلب میں جماعت اسلامی خیبرپختونخوا جنوبی کے جنرل سیکرٹری محمد ظہور خٹک اور صوبائی سیکرٹری اطلاعات نورالواحد جدون کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت ضم اضلاع کے حوالے سے کسی بھی بڑے فیصلے کی مجاز نہیں۔
انہوں نے کہا کہ 25ویں آئینی ترمیم کے بعد سابقہ قبائلی اضلاع کا خیبرپختونخوا میں انضمام کے بعد اب آئینی طور پر مرج اضلاع سے متعلق کسی بھی بڑے فیصلے کی مجاز فورم صوبائی اسمبلی ہے، لہذا وفاقی حکومت ماورائے آئین اقدامات کے زریعے ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جانے والے قبائلی اضلاع کو مذید پسماندہ رکھنے سے اجتناب کریں ۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ انضمام کے وقت قبائلی عوام کے ساتھ کئے گئے اپنے وعدوں کی تکمیل پر فوکس کریں تاکہ انضمام کے ثمرات سے بہتر انداز میں استفادہ ممکن ہوسکے۔
انہوں نے کہا کہ انضمام کے وقت قبائلی عوام کے ساتھ وفاقی حکومت نے ہر سال 100ارب روپے دینے کا وعدہ کیا تھا اور تمام مرج اضلاع میں ہسپتالوں،کالجوں اور دیگر تعلیمی اداروں کا ترجیحی بنیادوں پر قیام کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن سات سال گزرنے کے باوجود وفاقی حکومت اپنے وعدوں کی تکمیل میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئی ہے۔
پارٹی رہنماوں کی جانب سے ضم اضلاع میں جاری بدامنی واقعات کی آڑ میں قبائلی علاقوں کی سابقہ حیثیت بحالی سمیت کسی بھی ممکنہ ملٹری آپریشن کی بھرہور مخالفت کرتے ہوئے اس حوالے سے 29جولائی کو پشاور میں آل پارٹیز کانفرنس منعقدہ کرنے کا اعلان کیا۔





