چارسدہ / تنگی: پلائی ڈیم سے اوور ٹاپنگ کے باعث جندی دریا میں تقریباً 8000 کیوسک کا درمیانے درجے کا سیلابی ریلہ جاری ہے، جو نشیبی علاقوں کی طرف بڑھ رہا ہے۔
ضلعی انتظامیہ نے چارسدہ اور تحصیل تنگی کے نواحی علاقوں میں الرٹ جاری کرتے ہوئے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔
ڈیم کے موجودہ اعداد و شمار کے مطابق پانی کی سطح زیادہ سے زیادہ ذخیرے کی حد 1450 فٹ تک پہنچ چکی ہے، جبکہ اسپل وے سے پانی مسلسل بہہ رہا ہے۔ نتیجتاً جندی دریا کے نچلے علاقوں کنیور، شیرپاو، عمرزئی، ترنگزئی، رجڑ اور چارسدہ شہر متاثر ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔
تحصیل تنگی کے اسسٹنٹ کمشنر وقاص آفریدی نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ جندی دریا کے کناروں سے دور رہیں اور خاص طور پر پائپ کازوے جیسے عارضی راستوں کا استعمال نہ کریں، جو اس وقت خطرناک ہو چکے ہیں۔
مزید برآں مسلسل بارشوں کے باعث دریا میں سیلابی صورتحال مزید سنگین ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ، پولیس اور ریسکیو اداروں کو فوری اقدامات کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے تاکہ مقامی آبادی کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا سکے، خاص طور پر خواتین اور بچوں کو۔
سیلابی ریلے نے شیرپاؤ میں ایک پل کو نقصان پہنچایا ہے اس کے ساتھ ہی شیر پاو میں سوئی گیس پائپ لائن کو بھی نقصان پہنچا ہے ۔ سیلابی ریلہ کا پانی اتمانزئی سے گزر رہا ہے
یہ بھی پڑھیں : ملک کے مختلف علاقوں میں بارش، آندھی، طوفان کا الرٹ جاری
عوام کو تاکید کی گئی ہے کہ وہ متبادل محفوظ راستے اختیار کریں، اور انتظامیہ کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے کسی بھی ہنگامی صورتحال میں مقامی حکام کو فوری اطلاع دیں۔
میڈیا اور مقامی اداروں سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ آگاہی مہم تیز کریں تاکہ ممکنہ جانی و مالی نقصان سے بچا جا سکے۔





