تعلیم تجربہ گاہ نہیں، حکومت سوچے سمجھے بغیر فیصلے کر رہی ہے، سردار حسین بابک

پشاور: خیبرپختونخوا میں آؤٹ آف اسکول بچوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے، جس کی بنیادی وجہ حکومت کی عدم توجہی اور تعلیم کے شعبے سے غیر سنجیدگی ہے۔

پختون ڈیجیٹل پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے سابق صوبائی وزیر تعلیم سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ تعلیم صوبائی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں، یہی وجہ ہے کہ حکومت نے 1500 سرکاری اسکولوں کو نجی اداروں کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو بذات خود اپنی ناکامی کا اعتراف ہے۔

سردار حسین بابک نے سوال اٹھایا کہ اگر اسکولز آؤٹ سورس کیے جا رہے ہیں تو پھر موجودہ اساتذہ، محکمہ تعلیم کے افسران، سیکرٹریٹ، ڈائریکٹریٹ اور ضلعی دفاتر کی ذمہ داریاں کہاں جائیں گی؟ یہ نظام کس کے فائدے کے لیے بنایا جا رہا ہے اور کیا یہ واقعی پائیدار ہوگا؟

انہوں نے کہا کہ حکومت خود بھی اس فیصلے کے مستقبل کے اثرات سے لاعلم ہے اور اپنی انتظامی صلاحیتوں پر عدم اعتماد کا اظہار کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ملکی زرمبادلہ ذخائر میں مثبت رجحان، 20 ارب ڈالر کی اہم سنگ میل عبور

سردار حسین بابک کے مطابق اب اصل سوال یہ ہے کہ حکومت کا آئندہ لائحہ عمل کیا ہوگا اور وہ تعلیم کے ساتھ درحقیقت کرنا کیا چاہتی ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ تعلیم جیسا اہم شعبہ تجربات کی نذر نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ اس کے اثرات نہ صرف طلبا بلکہ پورے معاشرے پر پڑتے ہیں۔

Scroll to Top