پشاور: خیبرپختونخوا میں 21 جولائی کو ہونے والے سینیٹ انتخابات میں بیلٹ پیپرز اسمبلی سے باہر لانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جس نے انتخابی عمل کی شفافیت پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
جیو نیوز کے مطابق ووٹنگ کے دوران پہلا ووٹ ڈالنے والے رکن اسمبلی نے خالی بیلٹ پرچی بیلٹ باکس میں ڈالی اور اصل بیلٹ پیپر باہر لے آیا، جس پر مخصوص نشان اور نمبر لگایا گیا۔
اس بیلٹ پیپر کو دوسرے رکن اسمبلی کو دیا گیا جس نے وہی ووٹ کاسٹ کیا اور اپنا بیلٹ پیپر باہر نکالا، اس طرح یہ سلسلہ پورے دن جاری رہا۔ ذرائع دعویٰ کر رہے ہیں کہ اس پورے عمل میں حکومت اور اپوزیشن دونوں کی رضامندی شامل تھی۔
یاد رہے کہ سینیٹ کی 11 نشستوں پر ہونے والے اس انتخاب میں پی ٹی آئی نے 6 جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے 5 نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ خیبرپختونخوا اسمبلی کے تمام 145 اراکین نے ووٹ کاسٹ کیے تھے۔
الیکشن کمیشن نے ان الزامات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بیلٹ پیپرز قانون کے مطابق اراکین کو دیے گئے، اور ووٹرز نے پولنگ بوتھ میں اپنی مرضی سے نشان لگا کر بیلٹ باکس میں ووٹ ڈالا۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ پولنگ کے دوران بیلٹ باکس سب کے سامنے رکھا گیا تھا اور کسی پولنگ ایجنٹ کی جانب سے کوئی اعتراض نہیں کیا گیا۔
ترجمان الیکشن کمیشن نے کہا کہ انتخابات آئین و قانون کے مطابق اور غیر جانبدارانہ انداز میں مکمل کرائے گئے۔
یہ بھی پڑھیں : سینیٹ انتخابات میں اے این پی اور پی ٹی آئی پارلیمنٹرینز کے ووٹ پر سوالیہ نشان، قیادت خاموش، اجمل وزیر
دوسری جانب ترجمان وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے سینیٹ انتخابات پر لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد اور شفافیت کو متنازع بنانے کی کوشش قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت نے آئینی طریقے سے پرامن اور شفاف انتخابات کا انعقاد یقینی بنایا، اور یہ حکومتی کارکردگی کا واضح ثبوت ہے۔





