اداروں کے خلاف متنازع ٹوئٹس سے متعلق کیس میں پاکستان تحریک انصاف کے سینیئر رہنما سینیٹر اعظم سواتی پر فردِ جرم کی کارروائی مؤخر کر دی گئی۔
نجی ٹی وی چینل (ایکسپریس نیوز)کیمطابق اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت میں کیس کی سماعت کے دوران آج بریت کی درخواست پر دلائل نہ ہو سکے، جس کے بعد عدالت نے سماعت 20 ستمبر تک ملتوی کر دی۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکہ کی عدالت میں اعظم سواتی کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت درج دو مقدمات پر کارروائی ہونا تھی۔ تاہم ان کے وکلاء کی جانب سے بریت کی درخواست پر دلائل نہ دیے جا سکے، جس پر عدالت نے آئندہ سماعت پر وکلاء کو تیاری کے ساتھ پیش ہونے کی ہدایت جاری کی۔
سماعت کے دوران اعظم سواتی نے عدالت سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا’’میں 2003 سے سینیٹ کا رکن ہوں، میری ہمیشہ یہی کوشش رہی کہ عدلیہ کو مضبوط کریں، لیکن افسوس ہے کہ ہم آپ کے ہاتھ مضبوط نہیں کر سکے۔‘‘
پی ٹی آئی رہنما اپنے وکلاء مرتضیٰ طوری اور سہیل سواتی کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت نے وکلا کو آئندہ سماعت پر بریت کی درخواست پر دلائل دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی سماعت 20 ستمبر تک ملتوی کر دی۔
یاد رہے کہ سینیٹر اعظم سواتی پر اداروں کے خلاف متنازع ٹوئٹس کرنے کے الزام میں پیکا ایکٹ کے تحت دو علیحدہ مقدمات درج ہیں، جن کی کارروائی انسدادِ سائبر کرائم قوانین کے تحت جاری ہے۔





