نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان چین کے ساتھ قریبی اور مضبوط تعلقات رکھتا ہے، تاہم امریکہ کے ساتھ بھی متوازن اور بہترین تعلقات کا خواہاں ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے العربیہ ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کیا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ ’’ہم چین کے بہت قریب ہیں، ہمارے تعلقات آئرن برادرز جیسے ہیں، لیکن ساتھ ہی ہم امریکا سے بھی مثبت اور باوقار تعلقات چاہتے ہیں۔ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان کا دورہ کرتے ہیں تو ہم ان کا خیرمقدم کریں گے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک امن پسند قوم ہے اور ہم بھارت سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں، بشرطیکہ امریکا ثالثی کا کردار ادا کرے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’’تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی، ہم کسی ملک سے جارحیت نہیں چاہتے لیکن امن کے لیے فریقین کو سنجیدگی دکھانا ہوگی۔‘‘
اسحاق ڈار نے مسئلہ کشمیر کو خطے کا اہم ترین حل طلب مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’اس کا حل اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے۔ اگر مسئلہ کشمیر حل ہو جائے تو جنوبی ایشیا میں بے پناہ معاشی ترقی کے دروازے کھل سکتے ہیں۔‘‘
نائب وزیراعظم نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’پاکستان سعودی عرب، یو اے ای اور قطر کے ساتھ برادرانہ تعلقات رکھتا ہے۔ ایران اسرائیل تنازع پر ہم سفارتی حل کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔‘‘
فلسطین کے معاملے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’دو ریاستی حل ہی فلسطین میں پائیدار امن کا واحد راستہ ہے۔ مسئلہ فلسطین کا حل ناگزیر ہے، اور اس حوالے سے اقوام متحدہ اور او آئی سی کو عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔‘‘
انہوں نے بتایا کہ فلسطین کے دو ریاستی حل سے متعلق ایک اہم بین الاقوامی کانفرنس 28 اور 29 جولائی کو نیویارک میں منعقد ہو رہی ہے، جس کی پاکستان مکمل حمایت کرتا ہے۔ اسحاق ڈار نے مطالبہ کیا کہ ’’دنیا کے مزید ممالک فلسطین کو تسلیم کریں تاکہ عالمی برادری کی جانب سے ایک مضبوط پیغام جائے۔‘‘





