پشاور ہائیکورٹ نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان کے خلاف الیکشن کمیشن کی کارروائی کو روکنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ جب تک کیس کا حتمی فیصلہ نہیں آتا، الیکشن کمیشن کوئی کارروائی نہ کرے۔
نجی ٹی وی چینل (سما نیوز)کیمطابق یہ حکم جسٹس اعجاز انور اور جسٹس خورشید اقبال پر مشتمل دو رکنی بینچ نے عمر ایوب کی درخواست پر سماعت کے دوران جاری کیا۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ الیکشن کمیشن نے ان کے موکل کو اثاثے ظاہر نہ کرنے پر نوٹس بھیجا تھا، حالانکہ قانون کے مطابق اثاثوں سے متعلق تفصیلات 120 دن کے اندر جمع کرانا ضروری ہوتی ہیں، اور عمر ایوب نے مقررہ وقت میں ہی جواب جمع کرا دیا تھا۔
وکیل کا مؤقف تھا کہ الیکشن کمیشن کا نوٹس بے بنیاد ہے، کیونکہ جواب وقت پر جمع ہوا، اس لیے کارروائی کا کوئی جواز نہیں بنتا۔
اس پر عدالت نے عبوری ریلیف دیتے ہوئے الیکشن کمیشن کو کارروائی سے روک دیا۔
دورانِ سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ اسی نوعیت کا ایک کیس ایبٹ آباد میں بھی زیر سماعت ہے، جس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ یا تو موجودہ کیس کو ایبٹ آباد منتقل کیا جائے، یا ایبٹ آباد والا کیس پشاور ہائیکورٹ میں منتقل کیا جائے۔
عدالت نے تمام فریقین کی ابتدائی سماعت کے بعد کیس کی مزید کارروائی آئندہ تاریخ تک ملتوی کر دی۔





