پشاور: پاکستان میں قانون تو بہت ہیں، لیکن ان پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے مسائل بڑھتے جا رہے ہیں۔
سینیئر صحافی طارق وحید نے پختون ڈیجیٹل پوڈکاسٹ میں بات کوتے ہوئے کہا کہ اصل مسئلہ قوانین کی کمی نہیں بلکہ ان قوانین پر عمل نہ ہونا اور عوام کو اپنے قانونی حقوق و ذمہ داریوں سے آگاہ نہ کرنا ہے۔
طارق وحید نے کہا کہ ماضی میں پولیس تشدد سے کسی کی جان جانے پر محکمہ جاتی کمیٹیاں بنتی تھیں جو شفافیت سے خالی ہوتی تھیں، لیکن اب ایسے واقعات کی تحقیقات وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کرے گی جس کے پاس آئینی اور قانونی اختیارات موجود ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کی روشنی میں 2022 میں پاکستان میں حراست کے دوران تشدد کی روک تھام کے لیے قانون سازی کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : 11 اضلاع کی کہانی ختم، اصل تبدیلی کی داستان 5 اگست کو شروع ہوگی،سردار حسین
اس کے بعد مختلف صوبوں میں سندھ، پنجاب اور حال ہی میں 2024 میں سوات سے چند واقعات رپورٹ ہوئے، جن کی ایف آئی اے نے تحقیقات کیں اور ذمہ دار پولیس اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی بھی کی گئی۔
طارق وحید کا کہنا تھا کہ قانون پر عمل درآمد اور شفاف تحقیقات ہی ایسے واقعات کے تدارک کا واحد ذریعہ ہیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور انسانی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔





