بھارتی پارلیمنٹ میں رافیل معاہدے سے متعلق اہم انکشافات سامنے آئے ہیں جن میں وزیرِاعظم نریندر مودی کی مبینہ مداخلت کا ذکر بھی شامل ہے۔
بھارتی اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے رافیل لڑاکا جہازوں کی خریداری کے معاملے پر زوردار بیان دیتے ہوئے بھارتی وزیراعظم کے دفتر اور نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر پر سخت مداخلت کا الزام عائد کیا ہے۔
پارلیمنٹ میں اپنی تقریر کے دوران راہول گاندھی نے کہا کہ ان کے پاس ایک خفیہ دستاویز موجود ہے جو ثابت کرتی ہے کہ وزیراعظم آفس اور قومی سلامتی کے مشیر نے رافیل معاہدے میں دخل اندازی کی، جس کی وجہ سے یہ ڈیل بری طرح متاثر ہوئی۔
راہول گاندھی نے کہا کہ یہ دستاویز کسی بھی ملک میں حکومت گرادینے کے لیے کافی ہوتی لیکن بھارت میں اس پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی، انہوں نے سوال اٹھایا کہ یہ خفیہ دستاویز کہاں گئی اور کہاں دفن ہو گئی؟ ان کے ان الزامات نے بھارتی حکومت کو شدید مشکل میں ڈال دیا ہے اور رافیل معاہدے کی شفافیت اور جنگی صلاحیتوں پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی خفیہ ایجنسی کی نااہلی کی وجہ سے رافیل طیارے گرے، عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کی تہلکہ خیز رپورٹ
راہول گاندھی کے اس بیان کو دنیا بھر میں بھارتی عسکری اور سیاسی کمزوری کا اعتراف بھی سمجھا جا رہا ہے خاص طور پر ایسے وقت میں جب حال ہی میں پاکستانی J-10C لڑاکا طیارے نے رافیل کو فضا میں مار گرایا تھا جس نے بھارتی دفاعی طاقت پر ایک بڑا سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔





