وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی میزبانی میں صوبے میں امن و امان سے متعلق علاقائی جرگوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی سلسلے کا دوسرا مشاورتی جرگہ آج وزیر اعلیٰ ہاؤس پشاور میں منعقد ہوا، جس میں ضلع باجوڑ اور مہمند کے عمائدین اور منتخب عوامی نمائندوں نے شرکت کی۔
جرگے میں وزیر اعلیٰ کے مشیر بیرسٹر محمد علی سیف، سینیٹر نور الحق قادری، چیف سیکرٹری، انسپکٹر جنرل پولیس، متعلقہ کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور دیگر پولیس حکام بھی شریک ہوئے۔
جرگے کے دوران قبائلی عمائدین نے حکومت سے امن کی فراہمی کا مطالبہ کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ وہ ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے دہشتگردی کو اجتماعی دشمن قرار دیتے ہوئے کہا کہ تمام طبقات اس کے خلاف متحد ہیں۔
جرگے میں شریک نمائندوں نے واضح کیا کہ وہ کسی بھی قسم کے عسکری آپریشن یا جبری نقل مکانی کو قبول نہیں کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے مستقل خاتمے کے لیے ایک وسیع البنیاد اور بااختیار جرگہ تشکیل دیا جائے جس میں وفاقی و صوبائی حکومتوں کے ساتھ ساتھ قبائلی عمائدین اور تمام متعلقہ فریقین کو شامل کیا جائے تاکہ افغان حکومت اور عوام کے ساتھ بامقصد مذاکرات ممکن بنائے جا سکیں۔
یہ بھی پڑھیں : سونے کی قیمت میں ایک بار پھراضافہ
شرکاء نے مقامی سطح پر جرگوں کی روایت کو مثبت قدم قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ان مشاورتی جرگوں کو مزید بامقصد بنایا جائے تاکہ ان کے نتائج دیگر علاقوں کے لیے بھی سودمند ثابت ہو سکیں۔





