پشاور :عوامی نیشنل پارٹی(اے این پی) کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان سے قومی امن جرگہ کی صوبائی کمیٹی کے وفد نے ولی باغ چارسدہ میں اہم ملاقات کی۔
وفد کی قیادت عوامی نیشنل پارٹی خیبرپختونخوا کے صدر اور قومی امن جرگہ صوبائی کمیٹی کے چیئرمین میاں افتخار حسین کر رہے تھے۔
ملاقات کے دوران 23 اگست کو اسلام آباد امن مارچ کے حوالے سے سینیٹر ایمل ولی خان کو باضابطہ دعوت دی گئی اور ملک میں پائیدار امن کے قیام اور عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے قومی اتحاد و یکجہتی پر زور دیا گیا۔
اس موقع پر سینیٹر ایمل ولی خان نے کہا کہ پچھلے پانچ دہائیوں سے پشتون قوم مسلسل دہشت گردی کا شکار رہی ہے لیکن اقتدار میں بیٹھے اشرافیہ اور ان کے حلیف آج بھی انہی ناکام پالیسیوں سے چمٹے ہوئے ہیں۔ ہم نے ہمیشہ پاکستان کے ساتھ کھڑے ہو کر ہر مشکل میں اس کا ساتھ دیا، لیکن اس جنگ میں ہمیں تنہا چھوڑ دیا گیا ہے، ہمیں مارا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہاپاکستان کے باقی عوام سے گزارش ہے کہ جس طرح ہم نے آپ کے دکھ درد میں ساتھ دیا آج ہم آپ سے یکجہتی کی اپیل کرتے ہیں۔ آواز اٹھائیں پاکستان کے پشتونوں کے لیے بولیں۔ باجوڑ میں ریاستی ظلم و ستم جس میں معصوم جانیں ضائع ہو رہی ہیں فوراً بند ہونا چاہیے۔ یہ ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی مزید نہیں چل سکتی۔ ہم آپ سے اپیل کرتے ہیں کہ ہمارے ساتھ کھڑے ہوں اور انصاف و امن کے لیے ہماری آواز بلند کریں۔
ایمل ولی خان نے کہا کہ اس وقت جب ہر پختون گھر سے امن کے لیے آوازیں بلند ہو رہی ہیں، ایسے میں خیبر پختونخوا کو حکومتی پارٹی کی جانب سےبند کرنا وہی صوبہ جس نے آپ کو اقتدار دیا، آپ کو حکومت سونپی ،یہ عمل پختونوں کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔ یہ نہ صرف ایک سنگین مذاق ہے بلکہ پختونوں کے ساتھ تمسخر اور تماشہ بنانے کے مترادف ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا امن سے متعلق حالیہ بیان، اور پھر سافٹ ویئر اپڈیٹ کے بعد لیا گیا یوٹرن، اس حقیقت کی گواہی ہے جسے ہم برسوں سے چیخ چیخ کر بیان کر رہے ہیں کہ ریاست گڈ اور بیڈ کی تفریق کی پالیسی کے ذریعے ہمیں مسلسل تباہی کی طرف دھکیل رہی ہے۔ وزیراعلیٰ نے جو کچھ کہا وہ حقیقت تھا۔ اگرچہ اب اس بیان سے پیچھے ہٹنے کی کوشش کی جا رہی ہے مگر ہم اس حقیقت کو جھٹلا نہیں سکتے۔
ایمل ولی خان نے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ریاست وزیراعلی کے بیان پرکوئی وضاحت دے گی؟ یہ وقت ہے سچ بولنے، سچ سننے اور سچ کا ساتھ دینے کا۔
قومی امن جرگہ کے اس اجلاس میں مختلف سیاسی جماعتوں کے سینئر رہنماؤں نے شرکت کی جن میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سینیٹر مولانا عطاء الحق درویش، پاکستان پیپلز پارٹی کے احمد کریم کنڈی اور اخونزادہ چٹان، مسلم لیگ (ن) کے ارباب خضر حیات، قومی وطن پارٹی کے طارق احمد خان، پختونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے اشرف ہوتی، مسلم لیگ (ق) کے انتخاب چمکنی، مزدور کسان پارٹی کے صوبائی صدر عادل محمود، پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے محمد ہمایون، نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے جمال داوڑ، عوامی ورکرز پارٹی کے انجینئر حیدر اور مفتی عبداللہ شاکر شامل تھے۔
یہ بھی پڑھیں : واٹس ایپ کا صارفین کے تحفظ کے لیےنیا فیچر متعارف
اس موقع پر عوامی نیشنل پارٹی خیبرپختونخوا کے جنرل سیکرٹری حسین شاہ یوسفزئی، نائب صدر شاہی خان شیرانی، جوائنٹ سیکرٹری حامد طوفان، ضلع چارسدہ کے صدر شکیل بشیر خان اور رکنِ صوبائی اسمبلی نثار باز خان بھی موجود تھے۔





