پشاور: جنوبی وزیرستان اپر کے نام کی تبدیلی کی قرارداد متفقہ طور پر منظور،نیا نام تجویز

پشاور(شاہد جان )خیبرپختونخوا اسمبلی میں رکن صوبائی اسمبلی آصف خان نے جنوبی وزیرستان اپر کے نام کی تبدیلی کی قرارداد پیش کی، جسے ایوان نے متفقہ طور پر منظور کر لیا ۔

قرارداد میں سفارش کی گئی ہے کہ ضلع کا نام “محسود وزیرستان” رکھا جائے کیونکہ اس ضلع کی تقریباً 90 فیصد آبادی محسود قبائل پر مشتمل ہے۔

قرارداد میں یہ مؤقف بھی اپنایا گیا کہ موجودہ ضلع کا نام مقامی ثقافت اور شناخت کی عکاسی نہیں کرتا، اس لیے نام تبدیل کر کے مقامی قبائل کی ثقافتی پہچان کو اجاگر کرنا ضروری ہے۔

آصف خان نے اسمبلی میں کہا کہ محسود قبائل کی شناخت کو تسلیم کرنا وقت کی ضرورت ہے اور نام کی تبدیلی سے ان کی ثقافتی اہمیت کا اعادہ ہوگا۔

 واضح رہے کہ اکتوبر 2022 میں خیبر پختونخوا حکومت نے جنوبی وزیرستان کو دو اضلاع میں تقسیم کیا تھا۔سرکاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ جنوبی وزیرستان کو دو اضلاع میں تقسیم کر دیا گیا ہے جنہیں جنوبی وزیرستان اپر اور جنوبی وزیرستان لوئر کا نام دیا گیا ہے یہ فیصلہ لینڈ ریونیو ایکٹ 1967 کے تحت کیا گیا ہے۔جنوبی وزیرستان کے دو اضلاع میں تقسیم کو مقامی لوگوں نے سراہا تاہم نام کو لیکر جنوبی وزیرستان اپر کے محسود قبیلے کی جانب سے اختلافات سامنے آئے تھے۔

 

Scroll to Top