پشاور:معروف پبلک سیکیورٹی انالسٹ ادریس خان نے کہا ہے کہ کرپشن ہمارے معاشرے کا ایسا ناسور بن چکی ہے جسے نظر انداز کرنا ممکن نہیں رہا، اور بدقسمتی سے اس کے احتساب کا نظام ہر سطح پر ناکام ہوتا نظر آ رہا ہے۔
ادریس خان نے پختون ڈیجیٹل پوڈکاسٹ میں گفتگو کے دوران کہا کہ اگر غیر ضروری سرکاری آسامیاں ختم کر دی جائیں اور انتظامی اصلاحات نافذ کی جائیں تو نہ صرف نظام کو سادہ بنایا جا سکتا ہے بلکہ قومی خزانے پر پڑنے والا بوجھ بھی کم ہو سکتا ہے۔
انہوں نے وفاقی اور صوبائی افسران کے درمیان اختیارات کی کشمکش کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ یہ صرف گورننس کو مفلوج نہیں کرتی بلکہ اس کے منفی اثرات براہِ راست عوام پر پڑتے ہیں۔
ادریس خان کے مطابق سروس ڈیلیوری کے لیے ضروری ہے کہ عوام اور ریاست کے درمیان عمرانی معاہدے پر مؤثر عمل درآمد ہو۔
اس کا راستہ صرف اس وقت کھلتا ہے جب عوام کی سرکاری اہلکاروں تک براہِ راست رسائی ہو اور مختلف شعبوں کے ماہرین کو حقیقی ذمہ داریاں دی جائیں۔
یہ بھی پڑھیں : چہلم کے موقع پر پشاور پولیس کے آپریشن میں حیران کن راز سامنے آ گئے
انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت امن و امان کے مسائل میں الجھی ہوئی ہے، جس کے باعث انتظامی اصلاحات جیسے بنیادی امور پر توجہ دینا ممکن نہیں ہو رہا۔
آخر میں ادریس خان نے زور دیتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے انتظامی اصلاحات وقت کی اہم ضرورت ہیں، مگر افسوس کہ ان پر نہ تو توجہ دی جا رہی ہے اور نہ ہی ان کا کوئی خاکہ موجود ہے۔ حالانکہ مؤثر گورننس کے لیے یہ اصلاحات ناگزیرہیں۔





