پشاور ہائیکورٹ نے قومی اسمبلی اور سینٹ میں اپوزیشن لیڈرز کی تقرری روک دی

پشاور ہائیکورٹ نے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈرز کی نئی تقرریوں پر عملدرآمد روک دیا ہے، جبکہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما عمر ایوب اور سینیٹر شبلی فراز کے خلاف الیکشن کمیشن کی مزید کارروائی پر بھی عبوری حکم امتناع جاری کر دیا گیا ہے۔

نجی ٹی وی چینل (دنیا نیوز)کے مطابق یہ فیصلہ جسٹس ارشد علی اور جسٹس خورشید اقبال پر مشتمل دو رکنی بینچ نے جاری کیا، جو عمر ایوب اور شبلی فراز کو ڈی نوٹیفائی کیے جانے کے خلاف دائر آئینی درخواست کی سماعت کر رہا تھا۔

پی ٹی آئی کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل، بیرسٹر گوہر علی خان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے بغیر قانونی اختیار کے دونوں رہنماؤں کو ڈی نوٹیفائی کیا، اور 5 اگست کو قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کی نشست کو بھی غیر قانونی طور پر خالی قرار دے دیا گیا۔

بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ درخواست گزاروں کو آئین کے آرٹیکل 63(1)(h) کے تحت نااہل قرار دیا گیا، جو نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار سے بھی باہر ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ رولز آف بزنس کی شق 67(2) کے مطابق اپوزیشن لیڈر کا انتخاب مخصوص طریقہ کار کے تحت ہوتا ہے، جبکہ ڈی نوٹیفائی کا کوئی قانونی جواز پیش نہیں کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اگر کسی رکن کو نااہل قرار دینا ہو تو اسپیکر قومی اسمبلی یا چیئرمین سینیٹ کو ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھیجنا لازم ہوتا ہے، جو اس کیس میں نہیں کیا گیا۔ انہوں نے زور دیا کہ الیکشن کمیشن صرف ایڈمنسٹریٹو اختیارات رکھتا ہے، عدالتی اختیار استعمال نہیں کر سکتا۔

اپنے دلائل میں بیرسٹر گوہر نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے عمر ایوب اور دیگر رہنماؤں کے خلاف وہی مقدمہ بنیاد بنایا ہے جس میں ایم این اے عبدالطیف کو دہشت گردی کی عدالت سے دس سال قید کی سزا سنائی گئی، حالانکہ ان دونوں رہنماؤں کا براہ راست کوئی تعلق اس فیصلے سے نہیں بنتا۔

انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ اگر مناسب سمجھا جائے تو یہ معاملہ لارجر بینچ کو بھجوا دیا جائے، کیونکہ اس کیس میں آئینی نکات اور انتخابی عمل سے جڑے اہم اصول شامل ہیں۔

سماعت کے اختتام پر پشاور ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن، اسپیکر قومی اسمبلی، چیئرمین سینیٹ اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 15 اگست تک جواب طلب کر لیا، اور اس وقت تک عمر ایوب اور شبلی فراز کے خلاف کسی بھی قسم کی مزید کارروائی سے روک دیا۔

یہ فیصلہ آئندہ سیاسی و قانونی منظرنامے پر گہرے اثرات ڈال سکتا ہے، خاص طور پر پارلیمانی ایوانوں میں اپوزیشن کی نمائندگی کے حوالے سے جاری بحث کے تناظر میں۔

Scroll to Top